’امریکی کانگریس کے دس نمبری‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’امریکہ کا کوئی جما پلا جرائم پیشہ طبقہ نہیں سوائے کانگریس کے‘ یہ جملہ مارک ٹوئین نے آج سے بہت برس قبل اسی امریکی ایوان نمائندگان کے لیے کہا تھا جسکے انتخابات سات نومبر کو ہو رہے ہیں- امریکی راک اینڈ رول اور دیگر موسیقی پر موقر ہونے کے ساتھ انتہائی سنجیدہ سیاسی مضامین کے حوالے سے بھی مشہور میگزین ’رولنگ سٹون‘ نے اپنے تازہ شمارے کی سرورق کہانی امریکی کانگرس میں مبینہ کرپشن، نا اہلی اور جنسی سکینڈلوں کے بارے میں شائع کی ہے جس کا عنوان ہے ’ٹائم ٹو گو‘ یعنی جانے کا وقت آگیا۔ ’رولنگ سٹون‘ کے اس تازہ شمارے کی دلچسپ بات اس کا سرورق ہے جسے امریکی پارلیمان بلڈنگ کیپیٹل ہل کے گنبد و در و دیوار پر امریکی کانگریس کے منتخب حضرات و خواتین کی تصاویر میں انکی ناکوں کی جگہ سوروں کی تھوتھنیاں بنائی گئي ہیں جن سے رالیں ٹپک رہی ہیں اور امریکی کرنسی کے بل برس رہے ہیں- سرورق کہانی کے مصنف نے امریکی کانگریس کو نہ فقط کرپٹ، نا اہل اور جنسی جنونیوں کا اصطبل قرار دیا ہے بلکہ موجودہ امریکی ایوان نمائندگان کے منتخب اراکین کا ’دس بدترین‘ اراکین کے طور پر انتخاب کر کے انکے پروفائل بھی شائع کیے ہیں- آپ انہیں رولنگ سٹون کے ان ’ٹاپ ٹین‘ کو ’دس نمبری‘ اراکین کانگرس کہہ سکتے ہیں- میگزین نے موجودہ امریکی کانگریس کو روس کی پارلیمان ’دوما‘ سے تعبیر کیا ہے- میں نے سوچا کاش یہ ایک نظر پاکستانی منتخب ایوانوں پر بھی ڈال سکتے! ’رولنگ سٹون‘ کے ان ’دس نمبری‘ اراکین میں سر فہرست ایوان نمائندگان کے سپیکر جے ڈینس ہیسٹرٹ بھی ہیں جنہیں میگزین نے ’ہائی وے ڈاکو‘ قرار دیا ہے- کشتی کے اس سابق کوچ اور ریاست الینوائے سے منتخب ریپبلیکن رکن کے لیے میگزین نے یہ بات ان کی ریاست سے نکلنے والی اس شاہراہ کے حوالے سے کی ہے جس میں انکی زمین آتی ہے اور جس کا معاوضہ رکن کانگریس کو دیا گیا ہے- (الینوائے سے نکلنے والی شاہراہ نہ ہوئی سکھر تا پشاور ہائے وے ہوئی جس میں جناب زرداری سے لے کر جتوئی تک سب کے نام سنے گۓ تھے!) امریکی عوامی حلقوں میں بھی سپیکر ڈینس ہیسٹرٹ اور حکمران ریپبلیکن پارٹی پر سخت تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ حال ہی میں کانگریس میں کام کرنے والے کم عمر لڑکوں سے مبینہ جنسی تعلقات کے الزمات کے بعد سبکدوش ہونے والے ریپلیکن رکن مارک فولی کی کانگریس میں ایسی حرکات کے بارے میں سپیکر ڈینس ہیسٹرٹ نے معلومات رکھتے ہوئے بھی چپ سادھے رکھی تھی- ’رولنگ اسٹون‘ کے قرار دیے گۓ دوسرے ’دس نمبری‘ کی فہرست میں ریپبلیکن کانگریس مین ٹام ٹینکریڈو قابل ذکر ہیں جنہیں ميگزین نے کانگریس میں موجود ’زینو فوبس‘ میں سے ایک قرار دیا ہے- کولوراڈو سے منتخب یہ رکن کانگریس امریکہ میں موجود بارہ ملین غیرقانونی تارکین وطن کو امریکہ بدر دیکھنا چاہتے ہیں- ٹام ٹینکریڈو نے اس غیرقانونی تارک وطن بچے کو بھی امریکہ بدر کرنے کے لیے کہا تھا جس کے ہائی سکول میں امتیازی نبمر آئے تھے۔ میگزین کے مطابق یہی ٹام ٹینکریڈو ہیں جنہوں نے اسلامی دہشتگردوں کے امریکہ پر حملے کے جواب میں مکہ کو اڑانے کی بات کی تھی۔ اور حال ہی میں پوپ کے بیان پر ان کی مسلمانوں سے معافی لینے پر کہا تھا کہ اسکی کوئي ضرورت نہیں- ’نیشنل ریویو‘ جو ریپلیکن پارٹی کا سخت حامی مانا جاتا ہے انکی ایسی باتوں پر ’ٹام ٹینکریڈو ایڈیئٹ ہے‘ لکھا تھا- ان ’دس نمبریوں‘ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے لویسیانا کے ولیم جیفرسن بھی شامل ہیں جن کے کانگریس کی عمارت میں دفتر سے ایف بی آئی نے بھاری رشوت کی رقم ان کے فرِج سے برآمد کی تھی۔ حیرت انگیز طور پر، اب تک امریکی کانگریس کے ان انتخابات کی مہم میں سب سے زیاد بحث صدر بش کی عراق جنگ پالیسی اور کانگریس اور وائٹ ہاؤس میں ’اخلاقیات اور ضابطوں‘ کی مبینہ بے قاعدگیاں سب سے بڑا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ ’نیویارک ٹائمز‘ کے ایک قاری کے مطابق ’یہ انتخابات ایسے ہیں جن میں بش خود بش کی پالیسیوں سے فاصلہ رکھے ہوئے ہے!‘ ایک مبصر کا کہنا تھا ’صدر بش نے وائٹ ہاؤس سے امریکہ کو مارکیٹنگ کی طرح چلایا ہے اور اب بھی وہ عراق اور دیگر ایسے اہم امور پر اپنی پالیسیاں نہیں بلکہ ایڈورٹائيزنگ کا طریقہ بدلنے پر سوچ رہے ہیں-‘
لیکن نیویارک سے نکلنے والے مشہور ہفت روزہ ’نیشن‘ جو لبرل لوگوں کا ترجمان مانا جاتا ہے نے لکھا ہے: ’یہ انتخابات انتخابی مہم اور اس کے نعروں پر جیتے یا ہارے نہیں جا سکیں گے بلکہ امریکی عوام صدر بش کی عراق میں جنگ اور اندرون خانہ اقتصادی پالییسوں کو پرکھتے ہوئے ووٹ ڈالیں گے-‘ امریکی کانگریس جو کہ کبھی دو پارٹیوں ریپلیکن اور ڈیموکریٹس دونوں ہی کے اعداد اور شرکت سے چلائی جاتی نظر آتی تھی جیسے ’رولنگ سٹون‘ نے بھی کہا کہ ’ایک زمانہ سے واشنگٹن میں دونوں پارٹیوں کے اراکین ایک سے کلب ، گولف کلب اور حتی کہ ایک سی داشتائیں رکھتے ہیں‘(مجھے پاکستان کے ’مخدوم‘ زادے، ’شریف‘ زادے اور ’خان‘ یاد آئے) ، اور اب ایسا لگتا ہے جیسے فقط ایک ہی پارٹی سسٹم رائج ہو۔ وہ اس لیے بھی کہ کانگریس میں اکثریت حکمران ریپلیکن پارٹی کی ہے جسے اس کے ناقدین وائٹ ہاؤس کی توسیع ہی قرار دیتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس میں نومبر کے انتخابات کے نتیجوں کے ذریعے طاقت کا توازن اپنے حق میں کرنا چاہتی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی والے کہہ رہے ہیں کہ وہ اس سے عراق سے امریکی فوجوں کی واپسی کے لیے راہ ہموار کریں گے۔ جب میں نے یہ ہی سوال ایک پاکستانی امریکی ووٹر سے پوچھا تو انہوں نے کہا ’نہیں، میرا نہیں خیال کہ ایسا ہوگا کیونکہ ایسے بھی ڈیموکریٹک اراکین ہیں جنہوں نے جنگ عراق کی حمایت ریپبلیکن سے بھی بڑھ کر کی تھی-‘ |
اسی بارے میں امریکی سیاست، جنسی سکینڈل کا شور12 October, 2006 | آس پاس سیکس اسکینڈل: کانگریس کی تفتیش06 October, 2006 | آس پاس پہلے جنگ لڑی، اب انتخاب لڑیں گی23 March, 2006 | آس پاس ’عراق میں امریکی کامیابی ممکن ہے‘25 October, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||