BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 September, 2006, 08:20 GMT 13:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: ’آزاد یا مقبوضہ؟‘

فوجی
’نہ یہ کشمیر آزاد ہے نہ وہ بلکہ ہم تو ایک مقبوضہ پاکستان میں رہتے ہیں‘
میرا نو سالہ بیٹا لفظ ’کشمیر‘ سے حال ہی میں آشنا ہوا ہے اور وہ بھی جب سے ہم نے انٹر نیٹ پر ’کیفے کشمیر‘ نامی ایک دیسی ریستوران ڈھونڈ نکالا ہے۔
’میں نے سمجھا کہ کشمیر ایک الگ کنٹری ہے لیکن تم کہہ رہے ہو کہ وہ ایک ریاست ہے۔‘ کچھ دن پہلے میں اپنے بیٹے کے اس سوال پر حیران رہ گیا۔ میں نے اسے جواباً کہا: ’ہاں! تم اسے ایک ملک کہہ سکتے ہو۔‘

ابھی کل رات کی ہی بات ہے جب ہم ہندی فلم ’فنا‘ دیکھ رہے تھے جس میں کشمیر دکھایا گیا ہے۔ میری بیوی نے کہا ’کشمیر بہت خوبصورت ہے-‘ میرے بیٹے نے کہا: ’ہاں خوبصورت ہے لیکن ابو بتا رہا تھا وہاں کہیں جنگ بھی ہے۔‘
لیکن میرے بیٹے کے برعکس میں نے اپنے بچپن میں لفظ کشمیر کے آگے ہمیشہ ’آزاد‘ سنا تھا جہاں میرے ماموں کبھی فوج میں بھرتی ہوکر گۓ تھے۔ اور ہم پھر کشمیر ’فتح کرنے‘ کی باتیں سن سن کر بچپن سے بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچنے لگے۔

اسی کشمیر کے نام پر میرے ماموں کی فوج کھا کھا کر ایک ایسا ہاتھی بن چکی ہے کہ اب ’ہیومن رائیٹس واچ‘ نے کہا ہے کہ اس نے اور اس کی خفیہ ایجینسوں نے ’آزاد‘ کشمیر (میرے خیال میں تو دونوں ہی کشمیر مقبوضہ ہی ہیں) کے شہریوں کی زندگی عذاب بنا رکھی ہے۔

 ہم سمجھتے تھے کہ شاید ان خاکی خدائی فوجداران کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فقط سندھ، بلوچستان، اور زیادہ سے زیادہ پنجاب میں اورکاڑہ کے ملٹری فارمز کے کسانوں تک محدود ہوتی ہونگی لیکن معلوم ہوا ہے کہ اب وہ آزاد کشمیر کے لوگوں کو بھی فتح کرنے نکلی ہے۔ بنگال، بلوچستان، سندھ اور اب کشمیر!

ہم سمجھتے تھے کہ شاید ان خاکی خدائی فوجداران کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فقط سندھ، بلوچستان، اور زیادہ سے زیادہ پنجاب میں اوکاڑہ کے ملٹری فارمز کے کسانوں تک محدود ہوتی ہونگی لیکن معلوم ہوا ہے کہ اب وہ آزاد کشمیر کے لوگوں کو بھی فتح کرنے نکلی ہے۔ بنگال، بلوچستان، سندھ اور اب کشمیر!

کچھ دنوں پہلے ایک کشمیری نوجوان مجھے بتارہا تھا: ’کوئی ایسا کشمیری حریت پسند اور قومپرست رہنما نہیں جسے آئی ایس آئی نے تیار نہ کیا ہو-‘ مجھے سندھی قومپرست رہنما یاد آۓ!

دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر چوکنا نظر رکھنے اور انہیں رکوانے کے لیئے آزادانہ اور غیرجانبدارانہ کام کرنے والی تنظیم ’ہیومن رائیٹس واچ‘ نے پاکستانی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسیوں اور پولیس کے ہاتھوں ہونے والے جبر تشدد اور غیر قانونی نظر بندیوں پر اپنی اسی ’ود فرینڈز لائیک دیز‘ یا جسے آپ ’ہوۓ تم دوست جسکے۔۔۔۔‘ کہہ سکتے ہیں کے عنوان سے جاری رپورٹ میں کہا ہے کہ ’الفظ ’آزاد‘ کا انگریزی میں مطلب ’فری‘ ہے لیکن آزاد کشمیر کے لوگ کچھ بھی ہو سکتے ہیں سوا‌ئے آزاد ہونے کے۔‘

یہاں صرف اس رپورٹ میں سے انسانی خلاف ورزیوں کا ایک کیس ہی ملاحظہ کیجیے تو معلوم ہوجائے گا کہ اس کشمیر میں مہربان افواج پاکستان انکے ’زیر انتظام‘ کشمیریوں پر مظالم کے کیسے ناگا پربت توڑ رہی ہے: (پہلے میں سمجھا کہ شاید یہ بلوچستان کا قصہ ہے!)۔

’چھ یا سات سپاہی جن کی قیادت ایک میجر کررہا تھا، اس کارروائی میں جو تقریباً پانچ دن جاری رہی شریک رہے۔ سپاہی بدلتے رہتے تھے اور ہم سے باری باری ’مشقت‘ کراتے تھے۔ وہ ہمیں گھنٹوں اوپر کھڑے رہنے اور نیچے بیٹھنے پر لگائے رکھتے اور جب ہم تھک کر گر پڑتے وہ ہمیں بیلٹوں اور سلاخوں سے پیٹتے تھے۔ وہ ہم پر مسلسل دباؤ ڈالتے رہتے کہ ہم تسلیم کریں کہ ہم ’ڈبل ایجنٹ‘ بن چکے ہیں۔ اور یہ کہ ہم سرحد عبور کرکے بھارت اس لیئے گئے تھے کہ ہم ہندووں سے محبت رکھنے والوں میں سے تھے۔ اور یہ کہ ہم بے شرم حرامزادے تھے جو کہ ہماری مائوں بیٹیوں کے ساتھ عصمت دری کرنے والوں کے ہاتھوں جنسی بدسلوکی کا نشانہ بننا چاہتے تھے۔ شروع میں، میں نے اور دوسرے لوگوں نے ان سے بات چیت کرنے کی کوشش کی اور انہیں بتایا کہ وہ غلطی پر تھے، اور جو کچھ وہ کر رہے تھے غلط تھا۔ لیکن جب آپ کو اس قدر پیٹا جائے کہ آپ لہولہاں ہو جائيں اور بمشکل ہوش و حواس میں ہوں تو اس نوبت کے بعد آپ کے پاس کسی چیز کی اہمیت نہیں رہتی۔ انہوں نے سمیر (نام بدل دیا گیا ہے) کو ایک خاص مثال بنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ ہم میں سے سب سے زیادہ بولتا تھا۔ ہماری آنکھوں کے سامنے اسے برہنہ کر کے اس کی مقعد کے اندر مرچیں گھسیڑ دی گئيں۔ وہ چیختا چلاتا رہا، اور وہ جتنا زیادہ چیختا وہ اسے لاٹھیوں، لاتوں، بیلٹوں اور گھونسوں سے اتنا ہی زیادہ مارتے۔ وہ اسے مار مار کر بے ہوش کردیتے۔ اسے دوبارہ لے کر آتے اور مار مار کر اسے پھر بے ہوش کردیتے۔ وہ ہمارے سامنے نہیں مرا لیکن اس بات کو آٹھ برس بیت چکے ہیں لیکن ہم نے اسے ان پانچ دنوں کے بعد جب وہ ہمارے ساتھ تھا دوبارہ نہیں دیکھا۔ اس لیئے میرا خیال ہے کہ وہ مر چکا ہے۔ اسے مرنا ہی تھا۔ اس کے ساتھ جو کچھ انہوں نے کیا اس کے بعد اس کے لیئے بھی مرنا ہی بہتر تھا۔‘

ایک اور کیس میں مظفرآباد میں جموں کے مہاجر جمیل مرزا اپنے ساتھ ہونے والے تششد کی گواہی کچھ یوں بیان کرتے تھے:

’7 اپریل کو ہم نے بھوک ہڑتال کردی۔ سرینگر مظفرآباد بس سروس پر خوشی کا آظہار کرنے اور اسکی حمایت کرنے پر ہمیں کیوں نظربند کر دیا گیا ہے؟ دس اپریل کو صبح چھ بجے کے لگ بھگ ہمیں ناشتہ دیا گیا۔ ہم نے انکار کردیا۔ جیل حکام نے ہمیں لاٹھیوں اور آہنی سلاخوں سے مارنا شروع کردیا۔ چودہ یا پندرہ لوگ ہر شخص کو پیٹ رہے تھے۔ ان میں دیگر جرائم پیشہ قیدی اور پولیس والے شامل تھے۔ جیل سپرینٹنڈنٹ راجہ آفتاب سنتری پوسٹ پر کھڑا ہم قیدیوں کو مارنے کی ہدایات دے رہا تھا۔ ہمیں بری طرح مارا پیٹا گیا۔ (اس کا منصوبہ پولیس اور دیگر قیدیوں کے درمیان پہلے سے ہی طے تھا)۔ ایک شخص کی آنکھ باہر نکل آئي۔ ایک کے سر پر کئی زخم آئے۔ ایک دوسرے شخص کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ہر ایک جسم پر زخموں کے نشان تھے۔ ہمیں تقریباً ڈھائی گھنٹوں تک پیٹا گیا۔ یہ کارروائی تقریباً تین سیلوں (کوٹھریوں) میں صبح چھ بجے سے ساڑھے آٹھ بجے تک کی گئی۔ اس کے بعد جیلر آیا اور اس نے کہا ’اگر تم نہیں کھاؤ گے تو کھانہ تمہاری مقعد میں گھسیڑ دیں گے-‘

’ہم شدید جبر کی وجہ سے کھانے پر مجبور ہوگئے کیونکہ جنہوں نے کھانے سے انکار کیا انہیں بری طرح پیٹا گیا۔ محمد ایوب نے کھانا کھانے سے انکار کیا تھا تو انہوں نے اسکی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی۔ آزاد کشمیر کی حکومت ہمیں کیوں گرفتار کرتی ہے اور ہمیں کیوں مارتی ہے؟ ہم تو صرف حکومت پاکستان کی بیان کردہ پالیسی کی حمایت کر رہے تھے۔ کیا اس کی اجازت نہیں ہے؟ یا اسلام آباد میں بیٹھے مشرف کو علم نہیں کہ مظفرآباد میں کیا ہورہا ہے؟‘

کشمیریوں کی ’اصولی اور اخلاقی‘ حمایت کے دعویدار پاکستان کی ریاستی اداروں کے ہاتھوں زیادتیوں کے ایسے شواہد پر مشمتل ہیومن رائیٹس واچ کی یہ رپورٹ اس وقت عام ہونے کو تھی جب پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے شروع میں عالمی برادری کو نام نہاد آزاد کشمیر میں گزشتہ سال آنے والے زلزلے میں انکی امدادی کارروائیوں پر شکریہ ادا کررہے تھے۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ

ہیومن رائیٹس واچ کی رپورٹ وضاحت سے بتاتی ہے کہ کس طرح عالمی پریس کے نمئائندوں نے بھی دیکھا کہ فوج ملبے میں دبے شہریوں کو نکالنے کے بجائے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی تھی کیونکہ زلزلے کے مارے اور متاثرین کو ملبوں سے نکالنے کے انہیں اوپر سے ’آرڈر‘ نہیں تھے۔ اور پھر صحافیوں نے ہی کیمرے اور قلم چھوڑ کر ملبے میں دبے لوگوں کو نکالنا شروع کردیا- فوج تو چھاؤنیوں اور دوسری جگہوں سے اپنے فوجیوں کو نکالنے کو ترجیح دے رہی تھی۔ آپ نے بھی دیکھا کہ کس طرح کشمیریوں کو زلزلے کے ملبوں تلے مرنے دیا گیا لیکن ’قومی سلامتی‘ کے نام پر سرحد پار سے فوری امداد اور ریسکیو کی پیشکش کو ٹھکرادیا گیا۔ قومی غیرت اور قومی سلامتی میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے۔

 اکتوبر دو ہزار پانچ کا قیامت خیز زلزلہ ہو کہ وہاں ہونے والے حالیہ دھاندھلی دار انتخابات، جسکے نتیجوں میں آنے والی مقامی حکومت کو ہیومن رائٹس واچ ’برائے نام‘ہی قرار دیتی ہے کیونکہ اصل راج تو وہاں پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی سمیت اسکی خفیہ ایجینسیوں کا ہے، جنکا وہاں کے لوگ برسوں سے جبرو تشدد قید و بند کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

اکتوبر دو ہزار پانچ کا قیامت خیز زلزلہ ہو کہ وہاں ہونے والے حالیہ دھاندھلی دار انتخابات، جسکے نتیجوں میں آنے والی مقامی حکومت کو ہیومن رائٹس واچ ’برائے نام‘ہی قرار دیتی ہے کیونکہ اصل راج تو وہاں پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی سمیت اسکی خفیہ ایجنسیوں کا ہے، جنکا وہاں کے لوگ برسوں سے جبرو تشدد قید و بند کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

خاص طور پر بھارتی کشمیر سے آنے والے مہاجر اور وہ کشمیری قوم پرست جو دونون مقبوضہ کشمیروں کو پاکستان و بھارت کے چنگل سے آزاد ہو کر ایک متحد کشمیر دیکھنا چاہتے ہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنے ہیں۔ ان میں سابف لیکن سیکیولر سوچ والے عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔ وگرنہ یہ نیلی ندی اور پہاڑوں والا جنت نظیر کشمیر اپنے لوگوں کے لیئےجہنم اور جہادیوں اور دراندازوں کے لیے جنت اور لائین آف کنٹرول کے اس پار انکی کارروائیوں کا ’لانچنگ پیڈ‘ بنا ہوا ہے۔

دنیا کے خوبصورت لیکن اس خطرناک ہاٹ سپاٹ میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت پاکستانی اور ہندوستانی سکیورٹی فورسز، ’جہادیوں‘ اور دراندازوں کی بوٹوں اور بندوقوں تلے جی اور مر رہی ہے اور یہ دونوں کشمیر مقبوضہ اور کچھ بھی نہیں بس پاکستانی اور ہندستانی فوجی بھائیوں کے لیئے کھانے پینے کا پروگرام ہیں۔

نہ یہ کشمیر آزاد ہے نہ وہ بلکہ ہم تو ایک مقبوضہ پاکستان میں رہتے ہیں جسے فوج اور اس کی خفیہ ایجینسیوں نے فتح کر رکھا ہے۔

خیر میں تو کیپیٹل پنشمینٹ کے حق میں نہیں۔

کل میں نے سنا کہ ایک پاکستانی نیویارک میں ہوٹل روزویلٹ کے باہر مشرف مخالف ریلی میں احتجاج کا دور دور سے نظارہ کرنے والے میجر جنرل شوکت سلطان کو ایسے قبضہ گیر جنرلوں کے لیئے پاکستانی آئين کاآرٹکل 6 یاد دلا رہا تھا۔

ہیومن رائٹس رپورٹ
’آزاد‘ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد