’آزاد‘ کشمیر میں آزادی پر سوالات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومت کے مخالفین خصوصاً خودمختار کشمیر کے حامی افراد کو تشدد، سنسر شپ اور سیاسی بنیاد پر ظالمانہ کارروائیوں کا سامنا ہے۔ اس رپورٹ کے اجراء کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر برائے ایشیائی امور بریڈ ایڈمز کا کہنا تھا کہ’اگرچہ کشمیر کے اس حصے کو آزاد کہا جاتا ہے لیکن وہاں کے لوگوں کو آزاد کے سوا کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پاکستانی حکام بنیادی آزادیوں پر سخت پابندیوں کے ساتھ حکومت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ آزاد کشمیر میں ایک دکھاوے کی منتخب حکومت موجود ہے لیکن پاکستان کی وفاقی حکومت، فوج اور خفیہ ادارے آزاد کشمیر کی سیاسی زندگی کے تمام تر پہلوؤں کو کنٹرول کرتے ہیں۔‘ رپورٹ کے مطابق گو کہ کشمیر کا یہ حصہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے لحاظ سے’مقامی انتظامیہ‘ کے تحت ہے لیکن آج بھی پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں کسی بھی سرکاری معاملے میں شرکت یاحکومتی عہدے کے حصول کے لیئے نظریۂ الحاقِ پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھانا پڑتا ہے اور یہی نہیں بلکہ اس نظریے کو نہ ماننے والوں اور خودمختار کشمیر کی حمایت کرنے والے افراد کو مقامی پولیس یا پاکستانی خفیہ اداروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اظہارِ رائے پر بندشیں پاکستان کے زیرِ انتظام کشیر میں حکومتی پالیسی کا حصہ رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ خبروں کے حوالے سے ایک زرخیز خطہ ہونے کے باوجود آج بھی کشمیر کے اس حصے میں نہ تو کوئی آزاد اخبار موجود ہے اور نہ ہی کوئی ایسا ذریعہ جس کی مدد سے اس علاقے کی خبروں کو آزادانہ طور پر باہر کی دنیا تک پہنچایا جا سکے۔ اس کے برعکس اسی علاقے میں سرگرمِ عمل کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی حامی تمام جہادی تنظیموں کو مکمل آزادی اظہارِ رائے حاصل ہے۔ اس رپورٹ کے محقق علی دایان حسن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتطام کشمیر کے عوام انتہائی نگرانی کے تحت اپنی زندگی گزار رہے ہیں اور اس علاقے میں بہت حد تک پاک فوج کی ہی حاکمیت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیق کے دوران انہوں نے اس امر کا بھی اندازہ لگایا کہ گزشتہ برس آنے والے زلزلے کے دوران کالعدم تنظیموں کی جانب سے امدادی کاموں میں پہل بھی فوج کے خفیہ حلقوں کی مرہونِ منت تھی کیونکہ ان علاقوں میں اتنی جلد امداد پہنچانا فوج کی جانب سے نقل و حمل کی سہولیات کی فراہمی کے بنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے اس عمل کو فوج کی جانب سے ان تنظمیوں کو عوام کے سامنے ایک نئے روپ میں پیش کرنے کی کوشش قرار دیا۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گرفتار شدہ کشمیری قوم پرستوں اور خود مختار کشمیر کے حامیوں کو رہا اور آزاد کشمیر میں آزادی تنظیم، اجتماع اور اظہار پر عائد پابندیوں کو منسوخ کیا جائے۔ اس کے علاوہ مقامی اور پاکستانی ذرائع ابلاغ پر خبروں کے حصول اور ان کی رپورٹنگ کے حوالے سے عائد روایتی اور غیر روایتی پابندیوں کے خاتمے، کتابوں اور دیگر مواد کی آزادنہ اشاعت، اور صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظمیوں کی پورے آزاد کشمیر میں آزادانہ نقل وحمل جیسے مطالبے بھی اس رپورٹ میں شامل ہیں۔ | اسی بارے میں سروے ٹیموں کے خلاف عوامی غصہ07 September, 2006 | پاکستان غیر ملکی تنظیموں پر تنقید 23 August, 2006 | پاکستان 'لائن آف کنٹرول نرم ہونی چاہیے'15 October, 2005 | پاکستان جہادی تنظیمیں زلزلے کے خلاف ’جہاد‘ میں مصروف27 October, 2005 | پاکستان انسانی ہمدردی یا کچھ اور03 November, 2005 | پاکستان بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||