غیر ملکی تنظیموں پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متاثرہ ضلع باغ میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے غیرملکی امدادی تنظیموں سے کہا کہ وہ ان اداروں میں کام کرنے والی تمام مقامی خواتین کو ملازمتوں سے فارغ کردیں بصورت دیگر ان کو کام کرنے سے روک کر علاقے سے باہر نکال دیا جائے گا۔ ان امدادی تنظیموں پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ ’بے حیائی‘ پھیلارہی ہیں اور اخلاقی اقدار کو پامال کررہی ہیں ۔ اگرچہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بعض تنظیمیں کافی عرصے سے امدادی تنظیموں پر تنقید کررہے ہیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی علاقے میں لگ بھگ تمام طبقہ فکر ان تنظیموں کے خلاف متحد ہوئے ہیں ۔ باغ شہر میں جامع مسجد کے امام عطا اللہ شاہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ غیر ملکی امدادی تنظیمیں ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو اسلامی تعلیمات ، اخلاقی اقدار اور مقامی سماجی روایات سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں ۔ مذہبی رہنماؤں کو خواتین اور مردوں کا ایک ساتھ کام کرنے پر بھی سخت اعتراض ہے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ مردوں اور خواتین کا آزادانہ ماحول میں کام کرنا تمام برائیوں کی جڑ ہے ۔ عطا اللہ شاہ کا کہنا ہے کہ بعض اوقات امدادی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے والی مقامی خواتین کو غیر محرموں کے ساتھ کئی کئی روز گھر سے باہر رہنا پڑتا ہے اور یہ مذہب کے قطعی خلاف ہے۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ ان اداروں میں کام کرنے والی خواتین اکثر رات گئے گھر لوٹتی ہیں جبکہ ایمرجنسی کا وقت کئی ماہ قبل ختم ہوچکا ہے ۔ ان میں اوقات کار صبح ساڑھے آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک ہیں ۔ جمعیت علما اسلام مولانا فضل الرحمان گروپ کے مقامی سربراہ امین الحق نے یہ الزام عائد کیا ہے امدادی تنظمیں مقامی خواتین کا استحصال کر رہی ہیں ، ان کو جنسی طور پر حراساں اور بلیک میل کیا جاتا ہے اور یہ کہ ان کو اخلاقی گراوٹ کی طرف لیا جارہا ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان تنظیموں میں کام کرنے والے بعض مرد اخلاق سوز حرکات کا مرتکب ہورہے ہیں ۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اس لئے ایسے واقعات کو منظر عام پر نہیں لارہے ہیں کیوں کہ جن خواتین کے ساتھ یہ واقعات پیش آئے ہیں اس سے ان کی اور ان کے خاندان والوں کی بدنامی ہوگی ۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ مقامی خواتین کو ترجیجی بنیادوں پر ملازمتیں فراہم کرتے ہیں جبکہ بہت کم مقامی مردوں کو ملازمتیں دی جاتی ہیں اور ان میں کام کرنے والے بہت سارے مردوں کا تعلق پاکستان کے دوسرے شہروں سے ہے ۔ مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر امدادی تنظیمیں اس علاقے میں کام جاری رکھنا چاہتی ہیں تو وہ تین ستمبر تک مقامی خواتین کو ملازمتوں سے فارغ کریں اور ان کی جگہ مقامی مردوں کو ملازمتیں دی جائیں بصورت دیگر ان امدادی تنظیموں کو علاقے میں کام کرنے سے روک دیا جائے گا اور ان کو طاقت کے ذریعے باہر نکال دیا جائے گا ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی عزت غیرت اور اخلاق اقدار کی قیمت پر کوئی مدد نہیں چاہیے ۔ اگرچہ امدادی اداروں کے بارے میں لوگ اور کچھ تنظیمیں کافی عرصے سے شکایت کرتی آرہی تھیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ یہ احتجاج صرف مذہبی تنظیموں اور علما ہی نہیں کررہے ہیں بلکہ لگ بھگ تمام سیاسی اور طلبا تینظیموں کے ساتھ تاجر بھی امدادی اداروں کے خلاف متحد ہوئے ہیں ۔ ایک مقامی تاجر سلیم خان نے کہا کہ ہمارے صرف گھر تباہ ہوگئے ہیں ہم اپنی عزت کو روندنے نہیں دیں گے ۔ ہمیں کسی کی مدد نہیں چاہیے ہمیں اپنے قدموں پر خود کھڑا ہونے دیا جائے۔ ضلع باغ میں لگ بھگ ساٹھ غیر سرکاری تنظیمیں کام کررہی ہیں اور انھوں نے درجنوں مقامی خواتین کو ملازمت دی ہے ۔ غیر ملکی امدادی تنظیم آکسفام کے باغ میں پروگرام منیجر ہاشم بلال کا کہنا ہے کہ وہ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ کوئی غیر اخلاقی واقعہ پیش آیا ہے یا نہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اشخاص کا رویہ پوری تنظیم کی عکاسی نہیں کرتا ہے ۔ باغ کے ڈپٹی کمشنر ظفراقبال کا کہنا ہے کہ وہ اس تنازعے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ | اسی بارے میں دو مذاہب کی ماں27 November, 2003 | صفحۂ اول یورپی یونین کا وفد کشمیر میں22 June, 2004 | صفحۂ اول جگسیر کے خاندان کی داستانِ غم 28 July, 2004 | صفحۂ اول انسانی حقوق کی پامالی: احتجاج07 December, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||