جگسیر کے خاندان کی داستانِ غم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ایک قیدی نے بھارت میں اپنے خاندان کو ایک خط لکھا ہے جو نہ صرف اس کے گھر والوں کے لیے ایک خوشی کی خبر ہے بلکہ یہ بھارتی حکومت کے لیے ایک دھچکا بھی ہے۔ پچھلے ماہ بھارتی فوج کے جگسیر سنگھ کے خاندان والوں کو ان کا ایک خط موصول ہوا۔ جگسیر سنگھ کے اہل خانہ کے مطابق وہ پانچ سال پہلے کارگل کی جنگ کے بعد سے لاپتہ تھے جبکہ بھارتی فوج نے کہا تھا کہ جگسیر میدان جنگ سے بھاگ گیے تھے۔ لیکن اب اس خط نے انہیں چونکا دیا ہے۔ خط اڈیالہ جیل سے آیا ہے اور اس میں جگسیر سنگھ نے اپنی آب بیتی بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ انہیں کس طرح جنگی قیدی بنایا گیا۔ اس خط کے مطابق وہ اور ان کا ایک ساتھی عارف اب اڈیالہ جیل کی بیرک نمبر 6/8 میں قید ہیں۔ لیکن جگسیر سنگھ کی والدہ چھوٹو کور کہتی ہیں کہ خط ملنے کہ ڈیڑھ ماہ بعد بھی انڈیا کی حکومت نے جگسیر کی رہائی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اب چھوٹو کور اپنے علاقے کے رکن اسمبلی من پیت سنگھ بادل کی مدد سے جکسیر سنگھ کو رہائی دلانے اور واپس لانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ جکسیر سنگھ کے گھر والوں پر کیا گزری جگسیر سنگھ کی کہانی کچھ اس طرح سے ہے: بھارت کی 18ویں پلٹن کے لانس نائک جگسیر سنگھ کو 17 ستمبر 1999 کو کشمیر کے علاقے کرگل میں بارودی سرنگیں ہٹاتے ہوئے ایک اور ساتھی محمد عارف کے ساتھ پاکستانی فوج نے پکڑ لیا تھا ۔ تاہم جگسیر سنگھ کی پلٹن نے انہیں بھگوڑا قرار دے دیا۔ اس کے بعد جنوب مغربی پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹھ بھائی میں رہنے والے جگسیر کے خاندان کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بیٹے کےمیدان جنگ سے بھاگ جانے کی خبر ان کے والد گرودیو سنگھ اور والدہ چھوٹو کور کے لیے باعث شرمندگی تھی۔ والدہ نے کہا ’ہمارا بیٹا بہت اچھا تھا ایسا سیاہ ٹیکا ہم پر کیوں لگا؟ وہ سب لوگ جنہوں نے جگسی کو دیکھا ہے اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ ایک اچھا بچہ ہے۔تو پھر اس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ حکومت نے ہمیں ایک بھگوڑے کے خاندان کی جو بدنامی دی ہے وہ تو کبھی ختم نہیں ہو گی‘۔ جگسیر سنگھ کی والدہ کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس نے بھی خاندان کو تنگ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جگسیر کی والدہ، والد اور بیوی جسوندر کور کو بار بار پوچھ گچھ کے بہانے بلایا جاتا اور گھنٹوں دھوپ میں بٹھا دیا جاتا۔ روزانہ کی اس ذلت نے آخر جگسیر کے والد کی جان لے لی جبکہ ان کی بیوی، نوزائدہ بچی سروج کو لے کر میکے چلی گئی۔ رسوائی کے یہ دن پانچ طویل سالوں پر پھیلتے چلے گئے لیکن پچھلے مہینے چھوٹو کور کو اپنے کھوئے ہوئے بیٹے کا وہ خط ملا جس کو پا کر اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ یہ خط یوں تو اس ڈلت و رسوائی اور غلط فہمیوں کا اذالہ معلوم ہوتا ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہوگا کہ جگسیر سنگھ کے بارے میں بھارتی حکومت کیا موقف اختیار کرتی ہے اور پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے اس مرحلے میں اس مسئلے کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||