BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 September, 2006, 16:13 GMT 21:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیر: تحویل میں ہلاکتیں‘

بھارتی فوجی کشمیر میں
تحویل میں زندہ رکھنا غیر محفوظ ہوتا ہے، بھارتی سکیورٹی اہلکار
انسانی حقوق کی امریکی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ' ہر شخص خوف میں جیتا ہے: جموں اور کشمیر میں سزا دینے کے طریقے" کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ریاست کے دارلحکومت سری نگر میں کسی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم نے کوئی رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں شدت پسندوں پر تنقید کے ساتھ اس بات کا بھی ذکر ہے کہ پاکستان کشمیر میں تشدد کو ہوا دے رہا ہے

سری نگر میں ایک پریس کانفرنس میں تنطیم کے ایشیائی خطے کے ڈائریکٹر، بریڈ ایڈم نے کہا کہ بھارتی فوج کی حراست میں ہلاک کئیے جانے کے واقعات عام ہیں۔ انہوں نے کہا ’پولیس اور فوج کے اہلکاروں نے تنظيم کو بتایا ہے کہ فوج اکثر مشتبہ دہشت گردوں کو اس لئیے ہلاک کردیتی ہے کیونکہ ان کو تحویل میں رکھنا غیر محفوظ ہوتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی غیر قانونی ہلاکتوں کو اکثر شدت پسندوں اور فوج کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں بتایا جاتا ہے۔

مسٹر ایڈم کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال میں قدرے بہتری آئی ہے لیکن پھر بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ خاص طور پر کشمیر میں حراست میں ہونے والی ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس قسم کی کارروائی سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

مسٹر ایڈم نے یہ بھی کہا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے ۔ ’یہاں کی عدالتیں بین الاقوامی در جے کی ہیں اور یہاں قانونی نظام بہترین ہے۔ لیکن یہ ایک تشویش ناک بات ہے کہ بھارت میں اب بھی ایسے قوانین موجود ہیں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے فوجیوں کو سزادینے کی راہ میں حائل ہیں۔‘

انکا کہنا تھا کہ اگر بھارت کشمیر کی صورتحال کو بہتر بنانا چاہتا ہے تو اسے میجر اوتار سنگھ جیسے فوجی افسر کے خلاف مقدمہ چلانا چاہیے جو انسانی حقوق کے کارکن جلیل اندرابی کی حراست میں موت کے ذمے دار ہيں۔

تنظیم نے ان شدت پسندوں پر بھی سخت نکتہ چینی کی جو عام شہریوں کو اپنا نشانہ بنا تے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں نے ہندو اور سکھ جیسی مذہبی اور گجروں جیسی قبائلی اقلیتوں کو اس شبہہ کی بنیاد پر نشانہ بنایا ہے کہ وہ مخبر ہیں

رپورٹ کے مطابق جو شدت پسندگروپ فی الوقت کشمیر میں موجود ہیں وہ اپنا اثر کھو رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کشمیر کے عوام شدت پسندوں کے خلاف آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔

مسٹر ایڈم نے کشمیر میں تشدد کے لئیے پاکستان کو بھی ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کشمیری شدت پسندوں کو تربیت، اسلحہ اور مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے امریکہ میں 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکہ کے دباؤ کے سبب جیش محمد اور لشکر طیبہ جیسی بعض شدت پسند تنظیموں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ لیکن ان گروپوں نے نام بدل کر اپنا آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔

اسی بارے میں
کشمیر میں ایک جوڑا ہلاک
12 September, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد