BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 October, 2006, 01:57 GMT 06:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی سیاست، جنسی سکینڈل کا شور

مارک فولی
فولی میڈیا کی نظروں سے روپوش ہو گئے ہیں
یہاں آجکل اگر چرچا ہے تو بس کانگریس مین مارک فولی کے جنسی اسکینڈل کا! جس کے چھینٹےصدر بش کی ریپبلیکن پارٹی کی اعلیٰ قیادت پر پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

کانگریس مین مارک فولی چھ بار ریاست فلوریڈا سے ریپبلیکن پارٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کانگریس میں انتظامی کام کاج سیکھنے کے لیئے آنے والے طلبا کو جنسی ای میلز اور انسٹنٹ ٹیکسٹ پیغامات بھیجے۔ اٹھارہ سال سے کم عمر کے ان لڑکوں کے ساتھ ان کا یہ سلسلہ مبینہ طور پر کچھ برسوں سے چل رہا تھا لیکن دو ہفتے پہلے اس کا انکشاف امریکی نشریاتی ادرے اے بی سی نیٹ ورک نے کیا۔

امریکہ میں کافی لوگوں کو اس خبرنے چونکا کر رکھ دیا۔ اس لیئے بھی کیونکہ مارک فولی بچوں کو جنسی استحصال اورفحاشی سے تحفظ دینےسے متعلق کانگریس کی کمیٹی کے سرگرم رکن رہے ہیں۔

نو عمر لڑکوں کو ان کے بھیجے ہوئے جنسی پیغامات کے میڈیا کے ہاتھ لگتے ہی، انہوں نے وقت ضائع کیئے بغیر کانگریس میں اپنی رکنیت سے استعفیٰ دیا اور خاموشی سے واشنگٹن سے اپنے گھر فلوریڈا روانہ ہوگئے۔

اس دن سے لے کرآج تک مارک فولی میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہو چکے ہیں۔ لیکن پچھلے دو ہفتوں کے دوران ان کے کھڑے کیئے گئے جنسی اسکینڈل نے بظاہر امریکہ کی انتخابی سیاست میں ہلچل سی مچا کر رکھ دی ہے۔

عوامی تنقید کا بڑا نشانہ ریپبلکن پارٹی کی قیادت ہے جس پر الزام ہے کہ وہ اپنے رکنِِِ کانگریس کی ایسی حرکتوں کے بارے میں آگاہ تھے ۔ پھر بھی انہوں نے جان بوجھ کر اس معاملے کو دبایا ۔ ان الزامات نے کافی نشستوں پر ریپبلکن امیدواروں کے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

تنقید کی بڑی زد میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر ڈینس ہیسٹرٹ آئے ہیں۔ ان کے استعفے کا مطالبہ خاصا زوروں پر ہے جسے انہوں نے مسترد کر دیا ہے۔ سپیکر ہیسٹرٹ کا کہنا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کی قیادت کومارک فولی کی حرکتوں کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا اور اگر یہ تصدیق ہوجاتی ہے کہ کسی کو معلومات تھیں جو انہوں نے چھپائیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اس اسکینڈل میں کون حقائق چھپا رہا ہے اور کس کی کتنی ذمہ داری بنتی ہے؟ یہ جانچنے کے لیئے اس ہفتے ایف بی آئی کے علاوہ کانگریس کی ضابطہ اخلاق سے متعلق ایتھکس کمیٹی حرکت میں آ چکی ہے۔ اس کمیٹی کی کو شش ہے کہ جلد سے جلد اس اسکینڈل کی تہہ تک پہنچ کر ذمہ دار افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

امریکیوں میں ڈیموکریٹس کی نسبت صدر بش کی ریپبلیکن پارٹی کو قدامت پسند اقدار کی دعویدار جماعت کے طور پہ دیکھا جاتا ہے۔ کیا اس جنسی اسکینڈل سے ریپبلکن پارٹی کا روایتی ووٹ بینک متاثر ہو سکتا ہے؟ نیو یارک ٹائمز کے کالم نگار ڈیوڈ بروکس کہتے ہیں کہ رائے عامہ کے جائزوں سے نہیں لگتا کہ اس اسکینڈل کا الیکشن کے نتائج پر زیادہ فرق پڑے گا۔

بہرحال مارک فولی جنسی اسکینڈل ریپبلکن پارٹی کو کتنا مہنگا پڑے گا، یہ اگلے چار ہفتوں میں واضع ہو جائے گا۔ فی الحال یہاں ریپبلیکن پارٹی کے کچھ ووٹر یہ ضرور سوچنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ جس پارٹی کے منتخب اراکین واشنگٹن کے اقتدار کے ایوانوں میں کام کے لیئے بھیجے گئے نو عمر لڑکوں کا جنسی استحصال نہیں روک سکتے، وہ امریکی معاشرے میں بہتر سماجی اقدار کے لیئے کیا کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد