BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 June, 2005, 02:20 GMT 07:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واٹر گیٹ سکینڈل کا معمہ حل
News image
مارک فیلٹ کہتے ہیں کہ انہوں نے تین برس قبل اپنے خاندان کو واٹر گیٹ کے بارے میں بتای
اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ واٹر گیٹ سکینڈل کے دوران اس کے دو نامہ نگاروں کو جس شخص نے معلومات فراہم کی تھیں وہ ایف بی آئی کے سابق نائب سربراہ مارک فیلٹ تھے۔

ان کا نام چندگِنے چنے لوگوں کے سوا اب تک کسی کو معلوم نہیں تھا اور انہیں صرف ڈیپ تھروٹ یا بیٹھی ہوئی آواز والا کہا جاتا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کے دو نامہ نگاروں بوب ووڈ ورڈ اور کارل برنسٹین نے، جنہوں نے 1972 میں واٹر گیٹ کے سکینڈل کا پردہ چاک کیا تھا مارک فیلٹ کے نام کی تصدیق کردی ہے۔

منگل کو وینٹی فیئر نامی رسالے نے پہلی بار ان کے نام کا انکشاف کیا تھا جس پر ان دونوں نامہ نگاروں نے اپنی خاموشی توڑ دی تھی۔

بوب ووڈورڈ اور کارل برنسٹین نے جن کے ایڈیٹر بنجمن سی بریڈلی تھے پہلی بار یہ انکشاف کیا تھا کہ جون 1972 میں واٹر گیٹ نامی عمارت میں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر دفتر کا تالہ توڑ کے داخل ہونے کی جو واردات ہوئی تھی اس میں وائٹ ہاؤس کا ہاتھ تھا۔

وائٹ ہاؤس نے اس واقعہ کی پردہ پوشی کی کوشش کی لیکن واشنگٹن پوسٹ میں تابڑ توڑ شہادتیں شائع ہوتی رہیں۔ بالاخر معاملے نے ایسی سنگین صورت اختیار کرلی کہ صدر نکسن کے مواخذے کی نوبت آن پہنچی لیکن انہوں نے خود ہی استعفیٰ دےدیا۔

وائٹ ہاؤس کے چالیس افسروں پر جھوٹےحلف کے جرم میں مقدمے چلے اور سزائیں ہوئیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد