واٹر گیٹ سکینڈل کا معمہ حل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ واٹر گیٹ سکینڈل کے دوران اس کے دو نامہ نگاروں کو جس شخص نے معلومات فراہم کی تھیں وہ ایف بی آئی کے سابق نائب سربراہ مارک فیلٹ تھے۔ ان کا نام چندگِنے چنے لوگوں کے سوا اب تک کسی کو معلوم نہیں تھا اور انہیں صرف ڈیپ تھروٹ یا بیٹھی ہوئی آواز والا کہا جاتا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کے دو نامہ نگاروں بوب ووڈ ورڈ اور کارل برنسٹین نے، جنہوں نے 1972 میں واٹر گیٹ کے سکینڈل کا پردہ چاک کیا تھا مارک فیلٹ کے نام کی تصدیق کردی ہے۔ منگل کو وینٹی فیئر نامی رسالے نے پہلی بار ان کے نام کا انکشاف کیا تھا جس پر ان دونوں نامہ نگاروں نے اپنی خاموشی توڑ دی تھی۔ بوب ووڈورڈ اور کارل برنسٹین نے جن کے ایڈیٹر بنجمن سی بریڈلی تھے پہلی بار یہ انکشاف کیا تھا کہ جون 1972 میں واٹر گیٹ نامی عمارت میں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر دفتر کا تالہ توڑ کے داخل ہونے کی جو واردات ہوئی تھی اس میں وائٹ ہاؤس کا ہاتھ تھا۔ وائٹ ہاؤس نے اس واقعہ کی پردہ پوشی کی کوشش کی لیکن واشنگٹن پوسٹ میں تابڑ توڑ شہادتیں شائع ہوتی رہیں۔ بالاخر معاملے نے ایسی سنگین صورت اختیار کرلی کہ صدر نکسن کے مواخذے کی نوبت آن پہنچی لیکن انہوں نے خود ہی استعفیٰ دےدیا۔ وائٹ ہاؤس کے چالیس افسروں پر جھوٹےحلف کے جرم میں مقدمے چلے اور سزائیں ہوئیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||