BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 November, 2004, 20:44 GMT 01:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ فرانسیسی واٹر گیٹ‘ کی سماعت
News image
فرانس میں بغیر اجازت کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے کے بارہ واقعات بائیس سال کی رکاوٹ کے بعد عدالتوں تک پہنچ میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

یہ تمام کیس ان سول سروس کے اعلی افسروں کے خلاف درج کیے گئے ہیں جنہوں نے بعض شخصیات کی فون ان کی اجازت کے بغیر ٹیپ کیے۔ جن لوگوں کے فون ٹیپ کیے گئے ان میں رینالڈ شیف لوئی شواٹز بھی شامل ہیں۔

مقدمات کو عدالت پہنچنے میں بائیس سال اس لیے لگ گئے کہ جج کو خفیہ دستاویز تک رسائی حاصل کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔

اس مقدمے کو فرانس کا واٹر گیٹ سکینڈل بھی کہا جاتاہے۔

اس مقدمے میں تمام ملزموں پر الزام ہے کہ انہوں نے بغیر اجازت کے لوگوں کے ٹیلیفون ٹیپ کیے جس سے ان کی زندگی کی پرائویسی یا خلوت متاثر ہوئی ہے۔

بغیر اجازت کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے کے سارے واقعات دو عشرے پہلے صدر متراں کے زمانے میں ہوئے تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد فرانس میں ٹیلیفون ٹیپ کرنے کا یہ سب سے بڑا مقدمہ ہے۔

فرانسیسی صدر متراں نے 1982 میں سپیشل انسداد دہشت گردی کا ایک خصوصی سیل قائم کیا تھا جو بعد میں اپنے مقصد سے بھٹک گیا اور اس نے لوگوں کی پرائویسی اور خلوت میں مداخلت شروع کر دی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد