’ فرانسیسی واٹر گیٹ‘ کی سماعت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس میں بغیر اجازت کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے کے بارہ واقعات بائیس سال کی رکاوٹ کے بعد عدالتوں تک پہنچ میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ یہ تمام کیس ان سول سروس کے اعلی افسروں کے خلاف درج کیے گئے ہیں جنہوں نے بعض شخصیات کی فون ان کی اجازت کے بغیر ٹیپ کیے۔ جن لوگوں کے فون ٹیپ کیے گئے ان میں رینالڈ شیف لوئی شواٹز بھی شامل ہیں۔ مقدمات کو عدالت پہنچنے میں بائیس سال اس لیے لگ گئے کہ جج کو خفیہ دستاویز تک رسائی حاصل کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔ اس مقدمے کو فرانس کا واٹر گیٹ سکینڈل بھی کہا جاتاہے۔ اس مقدمے میں تمام ملزموں پر الزام ہے کہ انہوں نے بغیر اجازت کے لوگوں کے ٹیلیفون ٹیپ کیے جس سے ان کی زندگی کی پرائویسی یا خلوت متاثر ہوئی ہے۔ بغیر اجازت کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے کے سارے واقعات دو عشرے پہلے صدر متراں کے زمانے میں ہوئے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد فرانس میں ٹیلیفون ٹیپ کرنے کا یہ سب سے بڑا مقدمہ ہے۔ فرانسیسی صدر متراں نے 1982 میں سپیشل انسداد دہشت گردی کا ایک خصوصی سیل قائم کیا تھا جو بعد میں اپنے مقصد سے بھٹک گیا اور اس نے لوگوں کی پرائویسی اور خلوت میں مداخلت شروع کر دی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||