’صدر نکسن نشے میں تھے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر نکسن سرد جنگ کے بحران کے زمانے میں شراب کے نشے میں ہونے کی وجہ سےٹیلی فون پر بات نہیں کرسکے تھے۔ حال ہی میں جاری کئے گئے رکارڈ کے مطابق امریکی صدر رچرڈ نکسن 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے عروج پرشراب کے نشے میں ہونے کی وجہ سے برطانوی وزیراعظم کی ٹیلی فون کال کا جواب نہ دے سکے تھے۔ صدر کے قریبی مشیر ہنری کسنجر کی ٹیلی فون پر گفتگو کے تحریری ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے کولڈوار کے حریف، امریکا اور روس کی چپقلش کےدرمیان برطانیہ کے آجانے کے بحران پر، برطانیہ کی ٹیلی فون پر گفتگو کی درخواست کو رد کرنے کی کوشش کی تھی۔ ’کیا ہم انہیں منع کرسکتے ہیں؟‘ کیسنجر نے اپنے اسسٹنٹ سے پوچھا۔ ’جب میں نے صدر سے بات کی تو وہ خاصی پئے ہوئے تھے۔‘ برینٹ سکوو فورڈ ، مسٹر کسنجر کے اسسٹنٹ نے جواب دیتے ہوے کہا ’ ہم انہیں کہہ سکتے ہیں کے صدر صاحب موجود نہیں ہیں اور شائد وہ آپ کو کال کرلیں۔‘ مسٹر کسنجر نے کہا کہ صدر، برطانوی وزیراعظم، ایڈورڈ ہیتھ سے اگلی صبح بات کر لیں گے۔ یہ گفتگو جو11 اکتوبر، 1973 کی رات کو ہوئی، ٹیلیفون پر گفتگو کے ان بیس ہزار صفحات پر مشتمل ریکارڈ کا حصہ ہے جس کو تین دھائیوں کے بعد منظرعام پر لانے کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے جنوری 1969 سے اگست 1973 کے درمیانی عرصے کے رکارڈ کو لیا، اور یہ عرصہ امریکی تاریخ کا ایک مشکل دور تھا جس میں ویت نام کی جنگ، چین سے عارضی صلاح صفائی، مشرق وسطی میں کشیدگی جیسے واقعات شامل تھے اور بالآخر واٹرگیٹ سکینڈل، جس کے نتیجے میں رچرڈ نکسن اپنی صدارت سے ہاتھ دھو بیٹھےتھے۔ صدر نکسن کی کابینہ میں مسٹر کیسنجر کے پاس وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر کے دوھرے اختیارات تھے۔ اس ریکارڈ کے دیگر انکشافات میں چلی میں صدر سلواڈور الیندے کی سوشلسٹ حکومت کے خلاف بغاوت میں امریکی کردار کا بظاہرحوالہ بھی شامل ہے۔ ’ ہم نے کچھ نہیں کیا، جیسا کے آپ جانتے ہی ہیں، اس واقعے میں ہمارا ہاتھ نظر نہیں آتا۔‘ یہ بات مسٹر کسنجر نے صدر نکسن سے 16 ستمبر 1974 کو کہی۔ ’یہ ہم نے نہیں کیا۔ میرا مطلب ہے ہم نے ان کی صرف مدد کی ہے‘ انہوں نے مزید کہاکہ ایک شخص یا ادارہ جسکا نام ریکارڈ سے خارج کردیا گیا ہے نے ’حالات انتہائی سازگار بنادیے تھے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||