پہلے جنگ لڑی، اب انتخاب لڑیں گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق جنگ میں شرکت کرنے والی ایک امریکی خاتون کو جو اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہوگئی تھیں، نومبر میں کانگریس کے درمیانی مدت کے انتخابات میں امیداوار بننے کا موقع مل گیا ہے۔ اڑتیس سالہ لیفٹیننٹ ٹیمی ڈک ورتھ شکاگو سے ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے کانگریس کا انتخاب لڑیں گی۔ ٹیمی امریکی آرمی نیشنل گارڈ کے ہیلی کاپٹر کی پائلٹ تھیں اور ان کی دونوں ٹانگیں اس وقت ضائع ہوگئیں جب نومبر دو ہزار چار میں ان کے ہیلی کاپٹر کو مار گرایا گیا تھا۔ ٹیمی ڈک ورتھ تقریباً بارہ کے قریب ڈیموکریٹ امیدواروں میں کافی نمایاں ہیں۔ دیگر امیدوار بھی افغانستان یا عراق میں جنگ کے زمانے میں خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ شکاگو ٹرائبیون کے مطابق ٹیمی کو پرائمری الیکشن میں تینتالیس اعشاریہ پانچ فیصد ووٹ ملے۔ وہ اپنے مدِ مقابل سے صرف تین پوائنٹ آگے تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ’پیاروں‘ کی شکرگزار ہیں جنہوں نے انہیں عراق سے باہر نکالا۔ وہ ان طبی ماہرین کی بھی ممنون ہیں جنہوں نے ان کی جان بچائی اور انہیں ’دوبارہ چلنا سکھایا۔‘ ٹیمی نے ان رضاکاروں کا بھی شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے کانگریس کا انتخاب لڑنے کی مہم میں ان کا ساتھ دیا۔ ڈیموکریٹ پارٹی کو امید ہے کہ وہ سینیٹ میں جہاں حکمران جماعت ریپیبلیکن کی اکثریت ہے، درمیانی مدت کے انتخابات میں اپنے لیئے کچھ جگہ ضرور بنا لیں گے۔ ان کی اس امید کا سبب عراقی جنگ پر امریکی عوام کی تشویش اور ساتھ ساتھ حکمران جماعت سے منسلک افراد کے سکینڈل ہیں جن سے ڈیموکریٹ پارٹی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ امریکی حزبِ اختلاف نے پورے ملک میں ٹیمی ڈک ورتھ کے علاوہ زیادہ تر ایسے افراد کو انتخابات کے لیئے منتخب کیا ہے جنہوں نے جنگوں میں حصہ لیا ہے۔ | اسی بارے میں عراق پالیسی پر غور، پینل قائم16 March, 2006 | آس پاس تشدد اور بم دھماکے،15 ہلاک20 March, 2006 | آس پاس بغداد : امریکی فائرنگ سے8 ہلاک19 March, 2006 | آس پاس عراق میں خانہ جنگی نہیں: بش21 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||