نیا قبیلہ اور سردار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے فرسودہ قبائلی نظام میں اب ایک اور زیادہ مسلح، طاقتور، ظالم، جدید، انتقام پسند اور وسیع قبیلے کا اضافہ گِنوایا جا رہا ہے اور وہ ہے ’آرمی قبیلہ‘۔ پہلے پاکستان میں آرمی ایک طبقہ تھا اور اب ایک قبیلہ بن چکا ہے اور کوئی بعید نہیں کہ کل وہ ’قوم‘ بھی بن جائے۔ ویسے یہ پاکستان کیلیئے یہ کہاوت اب کافی پرانی تو ہوچکی ہے لیکن مذاق نہیں ’ملکوں کی فوج ہوتی ہے لیکن وہاں فوج کا ملک ہے‘۔ اور پاکستان میں اس قبیلے کا سردار بھی ہے جنہیں اب آپ ’سردار جنرل پرویز مشرف‘ کہہ سکتے ہیں۔ وہ کسی بڑے لیکن بہت ہی ظالم قبائلی سردار کی طرح بولتے ہیں اور فیصلے کرتے ہیں۔ انہیں ایک قبائلی کمانڈو صدر کہا جا سکتا ہے۔ دنیا میں ماحولیات کے شعبے میں ری سائیکلنگ کے حق میں کام کرنے والی تنظیموں اور سرگرم کارکنوں کو تو پاکستان کے اس فوجی حکمران کوایوراڈ دینے چاہیئے کیونکہ کہ ان کی تقریریں پس وپیش وہی ہوتی ہیں جو ان کے پیشرو حکمرانوں کی ہوا کرتی تھیں۔ یعنی کہ وہ انہی تقریروں کو ری سائیکل کرکے کاغذات بچا کر جنگلات بچا رہے ہیں۔ بلکہ ساری مملکت اب ایک جنگل لگتی ہے جہان ان کا قانون چلتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کی تقریریں لکھنے والے مفت کی تنخواہیں لے رہے ہیں وہ صرف یہ کرتے ہیں کہ ان کے پیشرو حکمرانوں کی تقریریں ان کے آگے پیش کردیتے ہیں جو ری سائیکل کرکے قوم سے خطاب کی صورت میں فخریہ پیش کردیتے ہیں۔ ایوب خان کے ہی دنوں میں ان کے ایسے ’قوم کو خطاب‘ کو ’قوم کو خظاب‘سے تعبیر کیا جانے لگا تھا۔ ’دشمن جہاں بھی ہو اس کا پیچھا کرو اور اسے تہس نہس کرکے رکھ دو‘ یحٰی خان نے سابقہ مشرقی پاکستان پر فوجي چڑھائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا۔ ’دشمن‘ سے ان کی مراد بنگالی تھے۔ اور جنرل مشرف نے کہا ہے کہ وہ ملک کے خلاف بولنے والوں کو کچل دیں گے۔ ملک کے مخالفوں سے مراد ان کے سیاسی مخالفین ہیں۔ کیونکہ وہ بذات خود ملک پاکستان ہیں۔ جیسے حبیب جالب نے کہا تھا:
میرے دوست نے کہا کمال ہے، پاکستان کے اکثر حکمران غیر پنجابی تھے جن میں ایوب خان ،چھاچھی پٹھان، یحیٰ خان پٹھان، بھٹو سندھی ، بینظیر سندھی، پرویز مشرف مہاجر لیکن گالیاں پنجابیوں کو پڑتی ہیں۔ پیارے پاکستان میں ایسے چوپٹ راج کو جی ایم سید کبھی ’پنجابی پٹھان پناہ گیر مستقل مفاد‘ کا نام دیتے تھے۔ ویسے ایسی دلالی میں سندھی اور بلوچ اشرافیہ نے بھی خوب اپنے ہاتھ کالے یا سفید کیئے ہوئے ہیں۔ اب یہ بلوچ قوم پرست جانتے ہوں گے کہ انہیں کہ جو وہ اپنی تقریروں اور جلسوں جلوسوں میں میں بڑے جوش و خروش سے شعر پڑہ رہے ہیں ’نثار میں تیری گلیوں پہ اے وطن کہ جہاں، چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘ کے خالق بھی ایک پنجابی ہی تھے۔ اور وہ بھی غیر بلوچ ہی ہیں جنہوں نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال اور فوج کے ہاتھوں نواب بگٹی کے قتل پر احتجاجاً اپنے اعزازات حکومت کو واپس کردیئے ہیں یا ان کو لینے سے انکار کردیا ہے۔ سندھی میں ایک کہاوت ہے ’ہم نے نہیں مارا کالے کتے نے مارا، کالا کتا جیل میں ہم سارے ریل میں‘ یہی پاکستانی اقتداری مافیا کا فلسفہ ہاۓ ’لڑاؤ اور حکومت کرو‘ ہے۔ یہی انگریزوں کا بھی اس خطے میں فلسفہ حکومت تھا۔ ’میرے والد کو انگریزوں کے آگے سر اٹھانے پر سزا ملی اور اکبر بگٹی کو اپنوں یا غیر انگریزوں کے سامنے سر اٹھانے پر‘ تازہ پیر پگاڑو نے اکبر بگٹی کی موت پر کہا ہے۔ پیر پگاڑو کے والد کو پھانسی دے کر انگریزوں نے ان کی لاش ان کے ورثا کے حوالے کرنے کے بجائے کسی گمنام جگہ پر دفن کردی تھی جس کا آج تک کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ بھٹو کی لاش سخت فوجی پہرے میں فقط ان کے گاؤں کے مولوی اور چند گاوؤں والوں کی معیت میں دفنائی گئی جنہیں ان کا چہرہ بھی دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بالکل ایسے حالات میں ایک ’پاپرس فیونرل‘ ( پھکڑ کے جنازے) کے منظر کی طرح اکبر بگٹی کو ان کے گاؤں ڈیرہ بگٹی میں ان کے آبائی قبرستان میں ڈی سی او لاسی اور خفیہ ایجنسیوں کی نظرداری میں دفنایا گیا۔ گھڑی، چھڑی، عینک اور انگوٹھی۔ آپکو یاد ہوگا کہ نہیں، حسن ناصر اور بھٹو کی میتوں پر حکومتوں نے ان کی انگوٹھیوں کی بات کی تھی۔ جب ہندستان سے حسن ناصر کی ماں زہرہ نے آکر اسے انگوٹھی سے شناخت کیا تھا۔ والٹیئر کو بھی فرانس کی سرحدوں کے باہر دفن کر آئے تھے تو کیا ہوا، سالوں بعد انہیں پھر والٹئير کو لاکر فرانس کے اندر دفن کرنا پڑا۔ ڈی سی او لاسی نے کتنی معصومیت سے وہاں موجود صحافیوں سے کہا ’ کیا ہم آپکو کریمنل نظر آتے ہیں‘ نہیں وہ فرشتے نظر آتے ہیں کرنل فرشتہ جیسے۔ فوج قبیلے کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا یہی جرگے کا فیصلہ ہے۔ قبائلی رسم و رواج کے مطابق ان کی تدفین ہوگی۔ روشن خیال اعتدال پسند جنرل پرویز مشرف کی سربراہی کے تحت اس سرخ فوج کو کتنا قبائلی اور جرگہ کے نظام کا پاس ہے۔ وہ سرخ اور انقلابی پاکستانی فوج جو سرداری نظام ختم کرنا چاہتی ہے۔ اب تو ان کا معتمد سردار جمالی بھی ان کا نکتہ چین بنا ہوا ہے۔
ایم کیو ایم حقیقی (اب تو اصلی والی بھی ان کے ہمرکاب ہیں) کی طرح فوجی ٹرکوں اور لاریوں میں لائے ہوئے لوگوں کا ایک جرگہ ہوا اور اس میں نواب بگٹی کی سرداری ختم کردینے کا اعلان کردیا گیا اور چند دنوں بعد نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت ہوئی۔ فوجی ترجمان کہتے ہیں یہ سب جرگے کا فیصلہ ہے اور وہ جرگے فیصلے کے خلاف ان کی لاش لواحقین کے حوالے نہیں کریں گے۔ ایک جرگے کے فیصلے کے تحت ہی مختار مائی کے ساتھ اجتمائی زیادتی کی واردات ہوئی تھی۔ اور شاید ایسی ہی’جرگائی‘ ذہنیت کے تحت ڈاکٹر شازیہ خالد کے ساتھ زیادتی کے مبینہ مجرم فوجی کیپٹن کو مقدمہ قائم کرنے سے قبل ہی بری کردیا گیا تھا۔ مجھے ڈر ہے کہ کل ملک کے سارے قبیلے اور جرگے ا کٹھے کرکے صدر مملکت خود کو بادشاہ نہ بنوا بیٹھیں کیونکہ جن کے والد نے ایوب خان کو ملک کے بادشاہ بن جانے کا مشورہ دیا تھا ان کے برخوردار اب جنرل مشرف کی جلد ہی نمائش کے لیئے پیش کی جانے والی ’خود نوشت سوانح عمری‘ کے مبینہ اصل مصنف بھی ہیں۔ |
اسی بارے میں ’بگٹی کی ہلاکت کی تحقیقات کرائیں‘30 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی میت پر اٹھتے سوالات30 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||