بش اور المالکی کی ویڈیو کانفرنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں تشدد کے خاتمے کے بارے پچھلے چند روز میں امریکہ اور عراق کے درمیان کشیدگی کے بعد سنیچر کو صدر بش اور عراقی وزیرِ اعظم نوری المالكي کے درمیان ویڈیو کانفرنس ہوئی ہے۔ وزیرِ اعظم المالكي نے کہا کہ صدر بش اور ان کے درمیان اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ عراقی سکیورٹی عملے کی تربیت کا کام تیز تر ہونا چاہیئے تاکہ وہ جلد از جلد غیر ملکی دستوں سے سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لیں۔ اس سے قبل صدر المالکی نے ملک میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کا الزام امریکیوں پر عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے عراقیوں کو نہ تو صحیح تربیت دی ہے اور نہ ہی اسلحہ دیا ہے۔ دوسری طرف امریکی انتظامیہ نے الزام عائد کیا تھا کہ صدر نوری المالکی شیعہ ملیشیا کے خلاف سخت اقدام نہیں کر رہے جو نسلی تشدد کے ذمہ دار ہیں۔ عراقی وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اگرچہ امریکیوں کے دوست ہیں لیکن وہ عراق میں امریکہ کے ’آدمی‘ نہیں ہیں۔
پچاس منٹ کی ویڈیو کانفرنس کے بعد ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ پارٹنرشپ کے لیے کوشاں ہیں اور ایک مستحکم اور جمہوری عراق کے لیے ہر ممکن طریقے سے کام کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی سنو نے کہا کہ امریکہ اور عراق کے تعلقات میں کوئی تناؤ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’وزیرِ اعظم کے کام کرنے کے طریقے سے صدر حقیقت میں بہت خوش ہیں‘۔ عراق میں امریکی مداخلت اور بڑھتا ہوا تشدد اگلے ماہ ہونے والے امریکی مڈ ٹرم انتخابات کا اہم موضوع بنے ہیں۔ |
اسی بارے میں عراقی پولیس کے بارہ اہلکار ہلاک27 October, 2006 | آس پاس عراق: اکتوبر میں 90 فوجی ہلاک25 October, 2006 | آس پاس عراق نہیں چھوڑیں گے: صدر بش 22 October, 2006 | آس پاس عراق میں امریکی ’تکبر اور بیوقوفی‘22 October, 2006 | آس پاس امریکی فوج کا سکیورٹی پلان ناکام19 October, 2006 | آس پاس 655000 عراقی ہلاک ہوئے: سروے11 October, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||