655000 عراقی ہلاک ہوئے: سروے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی یونیورسٹی کے سروے کے مطابق سن دوہزار تین میں عراق پر کیے جانے والے حملوں کے نتیجے میں اب تک لگ بھگ چھ لاکھ پچپن ہزار عراقی ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد کے تعین کے لیے محققین نے جنگ سے پہلے عراق میں شرح اموات کا جنگ کے بعد کی شرح اموات سے موازنہ کیا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے ایسے سینتالیس علاقوں سے اعداد و شمار یکجا کیے جن کا انتخاب انہوں نے کسی منصوبہ بندی کے بغیر کیا۔ چھ لاکھ پچپن ہزار ہلاکتوں کی تعداد عراقی اہلکاروں یا ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی کسی بھی تعداد سے کافی زیادہ ہے۔ سروے کے ناقدین نے ہلاکتوں کی تعداد کو یہ کہکر مسترد کردیا ہے کہ یہ نتائج لاشوں کی گنتی کرنے کے بجائے اعداد و شمار کی جوڑ گٹھ پر مبنی ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد ’قابل اعتبار‘ نہیں ہے۔
سروے کے اندازے کے مطابق چھ لاکھ پچپن ہزار ہلاکتیں عراق کی کل آبادی کی ڈھائی فیصد ہے جس کا مطلب ہے کہ عراق پر حملوں کے وقت سے روزانہ پانچ سو ہلاکتیں ہوئیں۔ اس سروے کے لیے محققین نے اٹھارہ سو پچاس خاندانوں سے بات چیت کی جن میں بارہ ہزار آٹھ سو افراد رہتے ہیں۔ رائے دہندگان ملک کے مختلف علاقوں میں چالیس گھروں پر مبنی درجنوں برادریوں میں رہتے ہیں۔ محققین نے ان خاندانوں میں چھ سو انتیس ہلاکتوں کی شناخت کی، جن میں سے تیرہ فیصد عراق پر حملوں سے چودہ ماہ پہلے واقع ہوئیں اور ستاسی فیصد حملوں کے بعد چالیس مہینوں کے دوران۔ اس اعداد و شمار کا محققین نے ملکی سطح پر جائزہ لیا جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شرح اموات پانچ اعشاریہ پانچ فی ایک ہزار افراد سے بڑھ کر تیرہ اعشاریہ تین ہوجاتی ہے۔ سروے کے محقیقن کا کہنا ہے کہ رائے دہندگان میں سے لگ بھگ اسی فیصد افراد نے اپنے رشتہ داروں کی ہلاکتوں کے موت کے سرٹیفیکٹ پیش کیے۔
اس سروے سے قبل بھی لگ بھگ اسی طرح کے ’کلسٹر‘ طریقے سے محققین نے اندازہ لگایا تھا کہ عراق پر حملوں اور اپریل دوہزار چار کے درمیان لگ بھگ ایک لاکھ عراقی ہلاک ہوئے۔ اس تعداد کو بھی امریکی اتحاد کے حامیوں نے مسترد کردیا تھا۔ ناقدین مثال دیتے ہیں کہ غیرسرکاری ادارے ’عراق باڈی کاؤنٹ‘ نے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کی بنیاد پر اندازہ لگایا تھا کہ عراق میں ہلاکتوں کی تعداد چوالیس ہزار سے انچاس ہزار کے درمیان ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجود بلومبرگ اسکول کے محققین کا کہنا ہے کہ سروے کے ان کے طریقے کے تحت ہلاکتوں کی تعداد کم ہوسکتی ہے، زیادہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان خاندانوں میں رشتہ داروں نے ہلاکتوں کا انکشاف نہیں کیا ہوگا جن میں مزاحمت کار مارے گئے۔ سروے کے محققین کا کہنا ہے کہ ماضی کے دیگر جائزوں کے اعداد و شمار کے مقابلے میں انہوں نے جو چھ لاکھ ایک ہزار مزید ہلاکتیں بتائی ہیں ان میں سے اکتیس فیصد امریکی اتحاد کی افواج کے ہاتھوں ہوسکتی ہیں۔ اس سروے کے نتائج جمعرات کو برطانیہ سے شائع ہونے والے طبی جریدے لانسیٹ میں شائع کیے جارہے ہیں۔ |
اسی بارے میں 4000 غیرملکی ہلاک: القاعدہ29 September, 2006 | آس پاس عراق: اکتوبر میں 37 امریکی ہلاک10 October, 2006 | آس پاس ’بغداد میں بکھری ہوئی لاشیں‘10 October, 2006 | آس پاس القاعدہ کا سینئر عہدیدار ہلاک 26 September, 2006 | آس پاس ’حالات نہ بدلے تو عراق ٹوٹ جائے گا‘19 September, 2006 | آس پاس عراق:بم دھماکہ، دس ہلاک 33 زخمی 13 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||