’حالات نہ بدلے تو عراق ٹوٹ جائے گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا کہ عراق اس وقت خانہ جنگی کے دھانے پر کھڑا جسے ٹوٹنے سےبچانے کے لیئے عراقی رہنماؤں اور عالمی برداری کو مل کر فوری اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے صرف ایک روز پہلے کوفی عنان نے عراق میں خانہ جنگی کے خدشے کا اظہار ایک ایسی میٹنگ میں کیا ہے جہاں امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس اور عراق کے صدر جلال طالبانی موجود تھے۔ کوفی عنان نے کہا کہ عراق اور اس کے رہنما ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ اگر وہ سارے عراقیوں کی ضروریات اور مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے قدم اٹھائیں گے تو امن اور خوشحالی اب بھی ممکن ہے لیکن اگر آبادی کے ایک حصے کو الگ تھلگ رکھنے کی کوششیں اور تشدد کا موجودہ چلن جاری رہے گا تو اندیشہ ہے کہ عراقی ریاست بھر پور خانہ جنگی کا شکار ہو کر ٹوٹ جائے گی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے کوفی عنان کے عہدے کی مدت ختم ہو رہی ہے وہ عراق کے معاملے میں زیادہ کھل کر بات کرنے لگے ہیں۔ پچھلے ہفتے کوفی عنان نے کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ حالیہ دورے کے دوران ان کو اکثر عرب رہنماؤں نے بتایا تھا کہ عراق پر امریکی یلغار ایک بڑی غلطی تھی جس نے پورے علاقے کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں ’عراق کی صورت حال تشویشناک‘01 September, 2006 | آس پاس عراق: دھماکوں میں 25 ہلاک17 September, 2006 | آس پاس صدام حسین ڈکٹیٹر نہیں تھے: جج14 September, 2006 | آس پاس عراق:بم دھماکہ، دس ہلاک 33 زخمی 13 September, 2006 | آس پاس عراق:خود کش حملہ، 10 فوجی ہلاک11 September, 2006 | آس پاس ’صدام کا القاعدہ سے تعلق نہیں‘09 September, 2006 | آس پاس فوج کی کمان عراق حکومت کے حوالے07 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||