BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 September, 2006, 03:51 GMT 08:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حالات نہ بدلے تو عراق ٹوٹ جائے گا‘
عراق لاشیں
فرقہ وارانہ تشدد میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا کہ عراق اس وقت خانہ جنگی کے دھانے پر کھڑا جسے ٹوٹنے سےبچانے کے لیئے عراقی رہنماؤں اور عالمی برداری کو مل کر فوری اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے صرف ایک روز پہلے کوفی عنان نے عراق میں خانہ جنگی کے خدشے کا اظہار ایک ایسی میٹنگ میں کیا ہے جہاں امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس اور عراق کے صدر جلال طالبانی موجود تھے۔

کوفی عنان نے کہا کہ عراق اور اس کے رہنما ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ اگر وہ سارے عراقیوں کی ضروریات اور مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے قدم اٹھائیں گے تو امن اور خوشحالی اب بھی ممکن ہے لیکن اگر آبادی کے ایک حصے کو الگ تھلگ رکھنے کی کوششیں اور تشدد کا موجودہ چلن جاری رہے گا تو اندیشہ ہے کہ عراقی ریاست بھر پور خانہ جنگی کا شکار ہو کر ٹوٹ جائے گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے کوفی عنان کے عہدے کی مدت ختم ہو رہی ہے وہ عراق کے معاملے میں زیادہ کھل کر بات کرنے لگے ہیں۔

پچھلے ہفتے کوفی عنان نے کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ حالیہ دورے کے دوران ان کو اکثر عرب رہنماؤں نے بتایا تھا کہ عراق پر امریکی یلغار ایک بڑی غلطی تھی جس نے پورے علاقے کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
عراق: دھماکوں میں 25 ہلاک
17 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد