عراق:بم دھماکہ، دس ہلاک 33 زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد میں نیشنل سپورٹس سٹیڈیم کے قریب ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم از کم دس افراد ہلاک جبکہ تینتیس زخمی ہو گئے ہیں۔ مرنے والوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ مشرقی علاقے شعاب میں واقع سٹیڈیم کے قریب کھڑی گاڑی میں نصب بم صبح کے مصروف اوقات میں پھٹا۔ عمومًا اس وقت وہاں لوگوں کی خاصی تعداد موجود ہوتی ہے۔ علاقے میں ایک اور بم دھماکے کی بھی اطلاعات ہیں۔ یہ بم دھماکہ پولیس کے اس اعلان کے ایک دن بعد ہوا ہے کہ جس میں اس نے بتایا تھا کہ منگل کی صبح بغداد کے مختلف علاقوں سے ساٹھ افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ان پر تشدد کرکے گولیاں ماری گئی تھیں۔ ان تمام افراد کی لاشیں بغداد کے جن علاقوں سے ملی ہیں ان میں مغرب میں سنیوں کے علاقے سے مشرق میں شیعوں کے علاقے دریائے دجلہ تک شامل ہیں۔ تاہم زیادہ تر لاشیں مغرب میں واقع سنی علاقے جبکہ پندرہ مشرق میں واقع شیعہ علاقے سے ملی ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پولیس مرنے والوں میں سے ابھی تک کسی کو شناخت نہیں کر پائی ہے کہ آیا ان میں سنی کون اور شیعہ کون ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بغداد میں فرقہ وارانہ ہلاکتیں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے تاہم چوبیس گھنٹوں کے دوران اتنی بڑی تعداد میں لاشیں ملی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کو ابھی تک فرقہ واریت کی بنیاد پر ان ہلاکتوں کی وجوہات معلوم کرنے میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ | اسی بارے میں بغداد: کٹوشا راکٹ حملہ، 60 ہلاک13 August, 2006 | آس پاس بغداد میں بیس زائرین ہلاک20 August, 2006 | آس پاس بغداد تشدد ، 27 ہلاک، تیس زخمی06 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||