BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 September, 2006, 20:59 GMT 01:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام حسین ڈکٹیٹر نہیں تھے: جج
جج العمیری نے مدعا علیہان کے ساتھ تصادم کی پالیسی اختیار کرنے سے گریز کیا ہے
عراق کے معزول صدر صدام حیسن کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے کہا ہے کہ سابق عراقی رہنما ڈکٹیٹر نہیں تھے بلکہ ان کے معاونین نے انہیں ایسا بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر دیا تھا۔

یہ متنازعہ ریمارکس اس واقعے کے ایک دن بعد سامنے آئے ہیں جب جج عبداللہ العمیری پر الزام لگا تھا کہ ان کا جھکاؤ صدام حسین اور دیگر مدعا علیہان کی طرف ہے۔

عدالتی کارروائی کے دوران ایک کرد باشندے نے بتایا کہ انیس سو نواسی میں ان کی صدام حسین سے ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد انہیں امید پیدا ہوئی تھی کہ ان کے اہلِ خانہ جیل سے رہا ہو جائیں گے۔

صدام حسین اور چھ دوسرے افراد پر کردوں کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات پر مقدمہ چل رہا ہے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران عراق میں تشدد کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔

جمعرات کو امریکی فوج نے کہا کہ انہوں نے القاعدہ تنظیم کے ایک رہنما کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاری بقول امریکی فوج مختلف چھاپوں کے درمیان عمل میں آئی۔

ادھر عراقی فوج کے حملے میں القاعدہ کے ایک اور رہنما ابو جعفر اللبی کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ مارے گئے ہیں۔

عدالت میں عبدالمحمد حسین کی گواہی کے بعد صدام حسین اور جج کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا۔ صدام حسین نے ستاون سالہ گواہ سے پوچھا: ’جب تمہیں معلوم تھا کہ میں ایک ڈکٹیٹر ہوں تو تم نے مجھ سے ملنے کی کوشش کیوں کی‘ اس پر جج نے کہا: ’آپ ڈکٹیٹر نہیں تھے بلکہ آپ کے ارد گرد افراد نے آپ کو ڈکٹیٹر بنا کر پیش کر دیا تھا۔‘

صدام حسین کے خلاف گواہی دینے والے کرد گواہ

گواہ نے جواب میں کہا کہ انہوں نے یہ سوچ کر صدام حسین سے ملاقات کی تھی کہ شاید انہیں ’میرے خاندان کی قید پر افسوس ہو اور وہ ان کی رہائی کا حکم دے دیں۔‘

گواہ نے بتایا کہ دو سال قبل ان کے اہلِ خانہ کی باقیات ایک اجتماعی قبر سے برآمد ہوئی ہیں۔

ایک روز قبل صدام حسین کے خلاف نسل کشی کے مقدمے میں استغاثہ کے سربراہ نے مطالبہ کیا تھا کہ مقدمے کی سماعت کرنے والے جج عہدہ چھوڑ دیں کیونکہ وہ صدام حسین کے حق میں ہیں۔

استغاثہ کے سربراہ منقط الفارون کے مطابق مدعا علیہان کو رعایت دی گئی ہے کہ وہ عدالت میں گواہوں کو دھمکیاں دیں اور سیاسی تقاریر کریں۔

تاہم جج عبداللہ العمیری نے یہ درخواست مسترد کر دی اور کہا ہے کہ ان کا طریقِ کار منصفانہ ہے اور ان کا تجربہ پچیس سال پر محیط ہے۔

الفارون نے کہا کہ جج کو چاہیے کہ وہ کسی فریق کو رعایت نہ دے تاکہ کوئی اس کا ناجائز فاعدہ نہ اٹھا سکے۔ انہوں نے کہ اپنے خیالات کے اظہار میں مدعا علیہان حد سے گزر چکے ہیں اور وہ گواہوں کو کھلم کھلا دھمکیاں دیتے ہیں۔

منگل کو سماعت کے دوران سابق عراقی رہنما نے دھمکی دی تھی کہ وہ ایک گواہ کے وکیل کا ’سر کچل دیں گے۔‘

تین دنوں کی سماعت کے دوران گواہوں نے عراقی فوج کے ہاتھوں کردوں کو قید کیئے جانے اور ان پر بمباری کی تفاصیل بیان کی ہیں۔

ایک گواہ مجید احمد نے بتایا کہ ان کے گاؤں پر بیس روز تک بمباری ہوتی رہی اور وہاں کے رہنے والے ایران بھاگ جانے پر مجبور ہوگئے۔

جب گاؤں کے لوگ واپس آئے تو انہوں نے خود کو عراقی فوج کے حوالے کر دیا جنہوں نے ان افراد کو جیلوں میں ڈال دیا اور’ تب سے آج تک ہم نے ان کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد