صدام کیس: گیس حملے کی سماعت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق عراقی صدر صدام اور ان کے چھ ساتھیوں کے جنگی جرائم کے مقدموں کے سلسلے میں پہلی گواہی پیش کی گئی ہے۔ اس وقت صدام حسین اور ساتھیوں کے خلاف انفال پر حملے کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ گواہ علی مصطفے کا کہنا ہے کہ اس کے گاؤں بیلیسان پر آٹھ سے بارہ جیٹ بمبوں سے حملہ کیا گیا تھا۔ علی کے مطابق دھماکوں سے بہت آواز تو نہیں پیدا ہوئی تھی مگر سبز دھواں اٹھا تھا۔ اور چند منٹوں بعد ہی سڑے سیب جیسی بو پھیل گئی تھی۔ لوگ الٹیاں کرنے لگے تھے اور اندھے ہو رہے تھے۔ سب چلا رہے تھے مگر خدا کے سوا کوئی مددگار نہ تھا۔ ایک شیر خوار بچہ بھی سانس لینے کی کوشش کرتا رہا اور آخر کار چل بسا تھا۔ جبکہ دفاعی دلائل دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس وقت ایران عراق جنگ جاری تھی اور یہ حملہ کردوں پر کیا گیا تھا جو ایرانیوں کی حمایت کر رہے تھے۔ جب علی سے پوچھا گیا کہ وہ کیسے جانتا تھا کہ یہ عراقی حملہ تھا تو اس نے کہا کہ اس نے اپنے گاؤں میں ان گوریلوں کو پناہ دی تھی۔ انفال آپریشن کے کمانڈر سلطان ہاشم احمد کا کہنا کہ شہریوں کو دوسرے علاقے میں منتقل کر دیا گیا تھااور اس نے یہ کہا تھا کہ عراقی علاقے کو ایرانیوں سے بچایا جائے۔ شہری نشانہ پر نہیں تھے۔ سلطان نے یہ بھی کہا کہ ہم نے غلطی نہیں کی اور پوری ایمانداری سے اپنے ملک کو بچانے کے کوشش کی ہے۔ صدام حسین اور اس کے ساتھیوں پر جنگی جرائم اور قتل عام کا الزام ہے۔ | اسی بارے میں صدام کا ناول ٹوکیو میں دستیاب19 May, 2006 | آس پاس مجھے زبردستی لایا گیا ہے: صدام26 July, 2006 | آس پاس صدام کی عدالت میں خاموشی21 August, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||