مجھے زبردستی لایا گیا ہے: صدام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں عراق کے سابق صدر صدام حسین نے کہا ہے کہ انہیں مقدمہ کی سماعت کے لیئے ان کی مرضی کے بغیر ہسپتال سے عدالت لایا گیا ہے۔ صدام حسین پچھلے کئی روز سے بھبک ہڑتال پر ہیں۔ انہوں نے کہا ’یور آنر مجھے یہاں زبردستی لایا گیا ہے‘۔ اپنے تین وکلاء کی ہلاکت پر صدام حسین نے سات جولائی سے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔ اتوار کوانہیں خرابی صحت کے باعث ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ پیر کو عدالتی کارروائی حصب معمول ہوئی، تاہم اس میں صدام حسین موجود نہیں تھے کیونکہ اس دن وہ ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ بدھ کو انہوں نے عدالت کو بتایا ’مجھے یہاں میری مرضی کے بغیر ہسپتال سے براہ راست لایا گیا ہے‘۔ ’امریکیوں نے میری مرضی کے بغیر اپنی مرضی مجھ پر مسلط کی۔ یہ غیر منصفانہ ہے‘۔ ان کے وکلاء دفاع کی ٹیم نے کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے جبکہ ان کی جگہ دوسرے وکلاء کو نامزد کردیا گیا ہے۔ صدام حںین نے جج سے کہا کہ وہ اپنے دفاع کے لیئے عدالت کی جانب سے مقرر کردہ ججوں کو مسترد کرتے ہیں۔ صدام حسین اور ان کے سات ساتھیوں پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ یہ تمام افراد نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ تمام ملزموں کے وکلاء کے حتمی دلائل مکمل کر نے پر مقدمہ کی کارروائی روک دی جائے گی اور پانچوں جج مقدمے کے فیصلے کے بارے میں غورو خوض شروع کر دیں گے۔ مقدمے کا فیصلہ اگست کے وسط متوقع ہے۔ | اسی بارے میں بھوک ہڑتال، صدام حسین ہسپتال میں 23 July, 2006 | آس پاس صدام اور ساتھی بھوک ہڑتال پر21 June, 2006 | آس پاس صدام غیر حاضر، مقدمہ جاری 01 February, 2006 | آس پاس صدام : کمرہ عدالت میں اشتعال12 June, 2006 | آس پاس عراق: بم دھماکے، پچاس ہلاک23 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||