بھوک ہڑتال، صدام ہسپتال میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے سابق رہنما صدام حسین کو بھوک ہڑتال کے دوران صورتحال خراب ہونے پر ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ صدام حسین پر ان دنوں عدالت میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ حال میں ان کے وکیل کو گولی مارکر ہلاک کیے جانے کے بعد سابق عراقی رہنما بھوک ہڑتال پر تھے۔ صدام حسین کا مطالبہ ہے کہ ان کے وکیلوں کو سکیورٹی فراہم کی جائے۔ عدالت کے سرکاری وکیلوں نے بتایا ہے کہ صدام حسین گزشتہ دو ہفتے سے بھوک ہڑتال پر تھے۔ عدالت کے چیف پراسیکیورٹر جعفر الموساوی نے بتایا کہ پیر کے روز سماعت کے دوران صدام حسین عدالت میں موجود نہیں ہوں گے۔ اس مقدمے میں صدام حسین اور ان کے دیگر سات ساتھیوں پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات ہیں۔ انہوں نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔ صدام حسین کی قانونی ٹیم نے بتایا ہے کہ ان کے مؤکل اور سات دوسرے قیدیوں نے عہد کیا ہے کہ وہ اس وقت تک ہڑتال ختم نہیں کریں گے جب تک وکلاء صفائی کو بین الاقوامی سطح کا تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔ | اسی بارے میں صدام مقدمہ: ’23 مقتول زندہ ہیں‘ 31 May, 2006 | آس پاس ’صدام حسین کو پھانسی دی جائے‘19 June, 2006 | آس پاس بغداد: صدام کے وکیلِ صفائی ہلاک21 June, 2006 | آس پاس صدام اور ساتھی بھوک ہڑتال پر21 June, 2006 | آس پاس صدام نے مقدمے کا بائیکاٹ کر دیا10 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||