BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 June, 2006, 20:27 GMT 01:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام اور ساتھی بھوک ہڑتال پر
صدام حسین کے وکیل کہتے ہیں کہ سکیورٹی کی خرابی کی ذمہ دار امریکی فوج ہے
عراق کے معزول صدر صدام حیسن نے اپنے سینئر وکیلِ صفائی کے قتل کے خلاف بھوک ہڑتال کر دی ہے۔

ان کے وکیل خامس العبیدی کی لاش عراق کے دارالحکومت بغداد میں ان کے اغواء کے چند گھنٹوں بعد ملی تھی۔

صدام حسین کی قانونی ٹیم نے بتایا ہے کہ ان کے مؤکل اور سات دوسرے قیدیوں نے عہد کیا ہے کہ وہ اور دیگر افراد اس وقت تک ہڑتال ختم نہیں کریں گے جب تک وکلاء صفائی کو بین الاقوامی سطح کا تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔

صدام حسین اور ان کے سات ساتھیوں پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں بغداد کی ایک عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔

مدعا علیہان اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ انیس سو بیاسی میں صدام حسین کے خلاف سازش کی ناکام کوشش کے بعد وہ ایک گاؤں میں ایک سو اڑتالیس شیعہ مسلمانوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔

وکلاء کی سکیورٹی کس کی ذمہ داری
معزول صدر کے ایک اور وکیل بش الخلیل نے خامس العبیدی کی ہلاکت کا ذمہ دار امریکی فوج کو ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے سیکورٹی کے انتظامات تبدیل کر دیئے تھے جس سے وکلائے صفائی کی جان کو خطرہ بڑھ گیا

صدام حسین کے وکلاء کے سربراہ خلیل الدلائمی نے بتایا ہے کہ ان کے مؤکلوں نے بدھ کے روز خامس العبیدی کی ہلاکت پر بطور احتجاج ہڑتال شروع کی۔

’انہوں نے کہا ہے کہ جب تک ان کے وکلاء کو بین الاقوامی سطح کا تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا وہ کچھ نہیں کھائیں گے۔‘

اس مقدمے میں استغاثے کا مطالبہ ہے کہ صدام حسین کو پھانسی دی جائے۔

وکلائے صفائی نے اکثر یہ شکایت کی ہے کہ انہیں مناسب تحفظ نہیں دیا جا رہا اور اسی بنا پر انہوں نے اس مقدمے کی انصاف پسندی پر شک کا اظہار کیا ہے۔

گزشہ سال اس مقدمے کی شروعات میں صدام حسین کے دو وکیلوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ اب اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔

صدام حسین کے ایک وکیل کی ہلاکت کے بعد خامس العبیدی نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے ساتھی وکیل کے ’سوچے سمجھے قتل‘ کی شدید مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ وکلائے صفائی کو اپنی حفاظت کا انتظام خود کرنا پڑتا ہے۔

معزول صدر کے ایک اور وکیل بش الخلیل نے خامس العبیدی کی ہلاکت کا ذمہ دار امریکی فوج کو ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے سیکورٹی کے انتظامات تبدیل کر دیئے تھے جس سے وکلائے صفائی کی جان کو خطرہ بڑھ گیا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے وکلا کو بہتر سکیورٹی کی پیشکش کی ہے لیکن اس پیشکش کو ہمیشہ مسترد کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد