BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 April, 2006, 13:50 GMT 18:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’موت کے وارنٹ پر صدام کے دستخط‘
صدام حسین
صدام حسین عدالت میں تمام الزامات سے انکار کرتے آئے ہیں
لکھائی کا تجزیہ کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ تجزیے سے ثابت ہوگیا ہے کہ 1982 میں شیعہ اکثریتی گاؤں دجیل میں 148 افراد کی ہلاکت کے احکام صدام حسین ہی نے جاری کیئے تھے۔

یہ مقدمہ صدام اور ان کے سات ساتھیوں کے خلاف قائم کیا گیا ہے۔ ان تمام افراد پر الزام ہے کہ وہ صدام حسین پر ایک قاتلانہ حملے کے بعد دجیل میں کیئے گئے قتلِ عام میں ملوث ہیں۔

استغاثہ اب تک عدالت میں ہزاروں ایسے دستاوازات پیش کرچکا ہے جن سے صدام حسین کا تعلق ان ہلاکتوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ صدام نے تحریری طور پر قتل عام کی اجازت دی تھی۔

وکلائے دفاع کا اصرار ہے کہ یہ دستخط جعلی ہیں۔ انہوں نے استغاثہ کے جانبدار ہونے کا سوال بھی اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ اس سازش میں عراق کی وزارت داخلہ کا ہاتھ ہے۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کا کہنا ہے کہ اب دستخطوں سے متعلق ماہرین کا فیصلہ اس مقدمہ میں اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس سماعت سے قبل جج نے ماہرین کو مزید دو دن کا وقت دیا تھا تاکہ وہ لکھائی کا اچھی طرح تجزیہ کرلیں۔

جج نے بدھ کی سماعت کا آغاز ماہرین کا فیصلہ پڑھ کر سنانے سے کیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ماہرین کے مطابق دستاویزات پر صدام کے اصلی دستخط اور لکھائی موجود ہے۔

ابھی یہ دستاویزات عوامی طور پر جاری نہیں کیئے گئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ دجیل میں 148 افراد کے موت کے وارنٹ پر صدام کے دستخط موجود ہیں۔

صدام حسین نے شروعات میں تو ان دستاویزات پر دستخط کرنا تسلیم کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ بطور صدر ان کی ذمہ داری تھی تاہم بعد ازاں انہوں نے ان کاغذات اور دستخطوں کی اصلیت پر شک کا اظہار کیا تھا۔

اگر صدام حسین مجرم قرار پائے تو انہیں سزائے موت کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں عدالت میں موت کے کچھ حکم نامے پیش کیئےگئے تھے جن پر بظاہر صدام حسین کے دستخط ہیں۔

گزشتہ پیر کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت میں استغاثہ نے ماہرین کا ایک بیان پڑھ کر سنایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ قاتلانہ حملے کے بعد کریک ڈاؤن سے متعلق دستاویزات پر صدام کی لکھائی موجود ہے۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ 1982 کے کریک ڈاؤن میں ملوث خفیہ ایجنٹوں کو انعام دینے کی منظوری کی دستاویز پر صدام کے دستخط ہیں۔

تاہم سماعت کے دوران وکلائے صفائی نے اس بیان پر جرح کی تھی اور لکھائی کے نئے ماہر کی تقرری کا مطالبہ کیا تھا۔

صدام اس سے قبل مارے جانے والے افراد پر مقدمہ چلانے کے حکم دینے کا بھی اقرار کر چکے ہیں اور ان کے مطابق وہ ایک قانونی فیصلہ تھا۔

یاد رہے کہ اپریل کے آغاز میں صدام حسین کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے کہا تھا کہ صدام پر قتلِ عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کے نئے الزامات کے تحت ایک نیا مقدمہ چلےگا۔

ان نئے الزامات کا تعلق 80 کے عشرے کے اواخر میں شمالی عراق میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائی سے ہے جس میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ اسّی ہزار افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد