صدام حسین کے نائب کا ’آڈیو ٹیپ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے سابق صدر صدام حسین کے نائب عزت ابراہیم الدوری نے عرب ممالک کی قیادت سے عراقی حکومت کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔ عربی ٹیلیوژن چینل الجزیرہ نےمبینہ طور پر انکی آواز میں ایک ٹیپ نشر کیا ہے جس میں عرب لیڈروں سے عرا قی مزاحمت کو مضبوط کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ عرب ملکوں کے رہنماؤں کا ایک اجلاس جلد ہی سوڈان میں ہونے والا ہے۔ اس ٹیپ میں شیعہ مزاروں پر حالیہ حملوں کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ عراق کے سابق رہنماؤں میں دوری سب سے زیادہ مطلوب ہیں۔ الدوری کے بارے میں یہ بھی قیاس تسلسل سے ہوتی آئی ہے کہ آیا وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ گزشتہ نومبر میں عراق کی سابق حکمران بعث پارٹی سے منسلک ویب سائٹوں میں یہ خبریں شائع کی گئی تھیں کہ الدوری کی کینسر کی بیماری سے موت ہو گئی ہے۔ لیکن اس وقت امریکی فوج نے کہا تھا کہ وہ ان خبروں پر محتاط طور پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ الدوری کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
ٹیپ میں منگل کو ہو رہے عرب لیگ کے جلسے میں شرکت کر رہے عرب لیگ کے لیڈروں سے ’غداروں اور ایجنٹوں‘ کی حکومت کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کے موجوہ عراقی حکومت ’قابض امریکیوں نے مقرر کی ہے‘۔ اپیل کرنے والے نے کہا ہے کہ ’عراقی مزاحمت کو عراقی عوام کی واحد نما ئندہ تنظیم کے طور پر تسلیم کیا جائے۔‘ ٹیپ میں شیعہ مزاروں پر ہوئے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئہ انھیں ’جرم‘ قرار دیا گیا ہے۔ الدوری پر عراق کی سنی مزاحمت کار تنظیموں کو امداد پہنچانے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ تریسٹھ سالہ الدوری صدام حسین کی حکومت کے دوران دوسرے نمبر کے سب سے طاقتور لیڈر مانے جاتے تھے۔ امریکہ القائدہ کے ابو مصائب الزرکاوی کے بعد اپنا سب سے بڑا دشمن مانتاہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||