| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کون ساصدام، زیادہ خطرناک؟
جب سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے عراق پر قبضہ کے بعد صدام حسین اور ان کے ساتھی روپوش ہوئے تھے دنیا بھر کے مسلمانوں کی اکثریت یہ سوال کر رہی ہے کہ صدام کے ساتھ کیا ہوگا اور امریکہ جو اپنے لیے کام کرنے والے آمروں کو آخر کار درسِ عبرت بناتا ہے صدام کے لیے کون سا طریقہ استعمال کرے گا؟ اس سلسلے میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں تھی جنہیں یقین تھا کہ صدام عراق سے پہلے ہی عراق سے امریکہ منتقل ہو چکا تھا اور امریکہ ہی میں ہے اور امریکہ نہیں چاہتا کہ صدام سامنے آ کر ساری دنیا کو یہ بتائے کہ وسیع تباہی کے جن ہتھیاروں کو عراق پر قبضے کا جواز بنایا گیا ہے وہ کُردوں اور ایرانیوں کے خلاف استعمال ہونے والے کیمیائی ہتھیاروں کی طرح خود امریکہ اور برطانیہ ہی کے تیار اور فراہم کردہ تھے۔ تاہم عراق میں موجود امریکی اتحادی افواج اور انتظامیہ یہ تاثر دینے میں اب تک کامیاب رہے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائیاں منظم کرنے والے صدام حسین کے ساتھی ہی ہیں اور اگر ان کے ان باون انتہائی مطلوب لوگوں کو گرفتار کر لیا جائے یا کسی طرح ختم کر دیا جائے تو مزاحمت کی تحریک دم توڑ جائے گی۔ اس کا اندازہ لگانے کے لیے پال بریمر کے ان الفاظ کو ذہن میں رکھا جانا چاہیے کہ ’اب تمام عراقیوں کو مخالفت چھوڑ کر عراق کی تعمیر میں حصہ لینا چاہیے۔‘
ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ وہ مزاحمت کرنے والوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ مزاحمت کرنے والے حلقے کون سے ہیں اور انہیں اس وقت بھی وسائل اور توانائی کہاں سے حاصل ہو رہی ہے یہ ظاہر ہو گیا ہے کہ وہ صدام حسین یا ان کے دوبارہ برسرِ اقتدار انے سے کوئی تعلق نہیں رکھتے اور نہ ہی ان کے لیے صدام کی روپوشی یا گرفتاری باعثِ حوصلہ افزائی یا حوصلہ شکنی ہے کیونکہ اگر دھماکے کرنے والے وہی ہیں تو انہوں نے گرفتاری کے دن اور گرفتاری کے دوسرے دن دھماکے کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کا کام ایک جاری عمل ہے جس کی منزل کم از کم صدام کا ہونا یا نہ ہونا نہیں۔ واضح رہے کہ جس روز صدام کی گرفتار کیا گیا ہے اس روز ہونے والے دھماکے میں سترہ اور دوسرے روز کار بموں سے کیے جانے والے دو دھماکوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک بتائے گئے۔ جب ایک کار بم ناکارہ بنا دیا گیا۔ اس تناظر سے بھی قطع نظر اب صدام حسین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی حراست میں ہیں اور سوال اب بھی یہی ہے کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ کیونکہ اکثر مبصرین کا یقین ہے عراق پر حملے کا مقصد صرف صدام حسین کی گرفتاری یا اسیری نہیں عراق پر قبضہ تھا جو اسی کارروائی کا تسلسل ہے جو کویت پر صدام سے حملہ کرا کر شروع کی گئی تھی اور جس کے نتیجے میں کم نرخوں پر تیل کا حصول اور اسرائیل کے لیے ممکنہ خطرات کو کم کرنے کا مقصد حاصل کیا گیا تھا۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے صدام حسین کی گرفتاری کے بعد پریس کانفرنس کے دوران عندیہ دیا ہے کہ صدام کے ساتھ جو کچھ بھی کیا جائے گا وہ ایسے انصاف پر مبنی ہوگا جو عالمی توقعات پر پورا اترے گا۔ امریکی صدر کے یہ الفاظ بہت کچھ کہتے ہیں۔ ظاہر ہے ان سے زیادہ کسے اس بات کا علم ہو گا کہ امریکہ جو کچھ کر رہا ہے اس پر عالمی برادری کی رائے کیا ہے اور وہ کس حد تک انصاف اور اصولوں کے ان تقاضوں پر پورا اترتا ہے جو عالمی برادری کے لیےقابلِ قبول ہو سکتے ہیں۔
اس وقت امریکہ کے لیے یا خاص طور پر بش انتظامیہ کے لیےعالمی برادری کو مطمئن کرنا یا یہ تاثر دینا کہ وہ کیوں ضروری ہے؟ کیا امریکہ واقعی عالمی برادری کے رائے یا محسوسات کو اتنی اہمیت دیتا ہے کہ اس کی وجہ سے اپنے مفادات کو پسِ پشت ڈال دے؟ اب تک کی تاریخ تو اس کی تائید نہیں کرتی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکہ کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑا اسے ان کی توقع نہیں تھی اس لیے سارا معاملہ تاخیر اختیار کر گیا۔ ایسا کیوں ہوا، اور وہ لوگ کیا ہوئے جنہیں اپنے نئے آقاؤں کا ہاروں اور پھولوں سے خیر مقدم کرنا تھا، یہ ایک الگ موضوع ہے۔ لیکن خلاف توقع حالات نے بہت کچھ تبدیل کر دیا ورنہ تو اب تک خطے میں کچھ اور بڑے واقعات بھی پیش آ چکے ہوتے۔ تاہم ان مبصرین کے مطابق اب صدام حسین امریکیوں کی حراست میں ہیں اور اب وہ ایک وجود نہیں ایک علامت ہیں، امریکہ انہیں آمریت اور ظلم و جبر کی علامت ثابت کرنا چاہے گا تاکہ وہ قابلِ نفرت بن جائیں اور یہی ان عراقیوں کی خواہش بھی ہے جو قابضین کا ساتھ دے رہے ہیں۔
ان مبصرین کے مطابق اس میں تو شک نہیں کہ صدام حسین ایک ظالم اور جابر حکمراں تھے۔ انہوں نے کویت پر حملے کے بعد بغاوت کرنے والے اہلِ تشیع کے خلاف انتہائی ظالمانہ کارروائی کی ، انہوں نے کردوں کو بھی گیس کا نشانہ بنایا اور ان میں سے بہت سوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ لیکن یہ ساری باتیں عراقی اکثریت کے لیے بے اثر ہو چکی ہیں اور خاص طور پر عراق پر قبضے کے بعد صدام کے لیے نفرت پیدا کرنے کے لیے یہ سب موثر ثابت نہیں ہو سکیں گی۔ اب مبصرین کا کہنا ہے کہ اول تو صدام کو سزائے موت دینا ایک مشکل امر ہے خاص طور پر عراقی قوانین کے تحت موت نہیں دی جا سکے گی۔ اگر اس کے لیے خصوصی ٹریبونل بنایا گیا جیسا کہ امریکہ نواز عراقی کونسل نے عندیہ دیا ہے اس کے ذریعے کسی خصوصی قانون کے تحت سزا دی گئی تو صدر بش کی مخاطب ’عالمی برداری‘ اور خاص طور پر مسلمانوں نوے فی صد سے زائد اکثریت اسے قتل سمجھے گی اور اس کا ذمہ دار امریکہ اور برطانیہ کو قرار دے گی۔ ان مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو جان لینا چاہیے کے برسرِ اقتدار سے زیادہ خطرناک روپوش صدام تھا اور اس سے زیادہ اسیر صدام ہے اور اس سے بھی زیادہ مقتول صدام ہو گا کیونکہ اس درمیانی عرصے نے ان سارے داغوں کو دھو دیا ہے جو انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں اپنے دامن پر لگائے تھے۔ اب جس صدام کو سزا دینے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مزاحمت کرنے اور اپنی مسلمان قوم کو غلامی سے بچانے کی کوشش کرنے والا رہنما ہے۔ مغرب اس بات کو اب تک نہیں سمجھ سکا کہ مسلمان ثقافتی اور تہذیبی طور پر اس حکمراں کے مقابلے میں ایسے حکمراں کے زیادہ مداح ہوتے ہیں جو کمزور اور منصف ہونے کے مقابلے ظالم اور طاقتور منتظم ہوں اور عراق کی تاریخ تو اس کا ایک ناقابلِ تردید حوالہ رکھتی ہے۔ اس کے برخلاف اگر صدام کو عالمی عدالت میں لے جایا گیا، جس کا امکان کم دکھائی دیتا ہے تو بھی صدام کو سزائے موت نہیں دی جا سکے گی۔ اس لیے کہ اس کے پاس سزائے موت ہے ہی نہیں۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی فراموش نہیں کیا جانی چاہیے کہ صدام حسین کی گرفتاری کے خلاف تکریت میں طلباء نے جلوس نکالا ہے۔ جلوس کے شرکاء سینکڑوں میں تھے لیکن انہوں نے نکلنا اور اپنی جذبات کا اظہار کرنا ضروری سمجھا اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے شاید اس لیے کہ عراقی ابھی یہنہیں بھول سکے کہ صدام حسین کے دور میں عراقی دینار ساڑھے تین امریکی ڈالرں کے مساوی بھی رہا ہے اور یہ بھی کہ عراق ایک تیل پیدا کرنے والا ایک ایسا ملک ہے جس نے دنیا کو کاشتکاری، شہریت اور علم سے روشناس کرایا۔ ایسا فخر رکھنے والی قوم کو کتنے عرصے تک غلام رکھنا ممکن ہو گا؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||