صدام محافظ کی دغابازی کا شکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول رہنما صدام حسین دراصل اپنے ایک نہایت وفادار محافظ کی دغابازی کی وجہ سے امریکی فوجوں کے ہاتھ لگے۔ اس بات کا انکشاف بی بی سی کے پروگرام پینوراما میں کیا گیا ہے جو اتوار کے روز دکھایا جائے گا۔ پینوراما نے معزول عراقی رہنما کی آزادی کے آخری لمحات کی تحقیقات کرنے کے بعد یہ انکشاف کیا ہے کہ آٹھ ماہ تک روپوش رہنے کے بعد آخرکار وہ اپنے وفادار محافظوں میں سے ایک کی، جو موٹا آدمی کہلاتا تھا، دغا بازی کی وجہ سے پکڑے گئے۔ پینوراما پروگرام میں بتایا گیا ہے کہ یہ ’موٹا شخص‘ محمد ابراہیم عمر المصلیت ہے جس نے اپنی گرفتاری اور تفتیش کے بعد امریکہ کے خصوصی دستوں کو اس زیر زمین پناہ گاہ کی نشاندہی کی جہاں صدام حسین چھپے ہوئے تھے۔
نو اپریل سن دو ہزار تین کو جب امریکی فوجیں بغداد میں داخل ہوئی تھیں وہ صدام حسین ایک سفید کار میں المصلیت ہی کے ساتھ فرار ہوئے تھے۔ المصلیت کو دسمبر میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد اسے تکریت لے جایا جا رہا تھا اس سے وہیں پوچھ گچھ ہوئی۔ تفتیش کے دوران بہت جلد ہی اس نے ایک دور افتادہ فارم کی نشاندہی کی جہاں صدام حسین چھپے ہوئے تھے۔ چھ سو امریکی فوجیوں کے دستے نے اس فارم پر چھاپا مارا لیکن اس عمارت میں کچھ نہ ملا۔ البتہ بعد میں انہیں زیر زمین کمیں گاہ کا پتا چلا جہاں صدام حسین چھپے ہوئے تھے۔ المصلیت کو صدام حسین کی گرفتاری پر ڈھائی کروڑ ڈالر کا انعام اس لئے نہیں ملے گا کیونکہ اس نے اپنی مرضی سے اطلاع فراہم نہیں کی تھی۔ امریکی حکام نے اس شخص کے بارے میں کچھ بتانے سے انکار کیا ہے جس نے صدام حسین کو دغا دیا لیکن صدام حسین کے قریبی لوگوں نے تصدیق کی ہے کہ یہ المصلیت تھا جس نے سابق عراقی صدر سے دغا بازی کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||