BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 December, 2003, 05:21 GMT 10:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صدام پر عراق ہی میں مقدمہ چلے گا‘
صدام حسین
عراق کے طاقتور ترین شخص کی کسمپرسی

عراق میں امریکہ کی نگرانی میں قائم گورننگ کونسل کے سربراہ عبدالعزیز الحکیم نے کہا ہے کہ صدام حسین پر مقدمہ عراق کی خصوصی عدالت میں ہی چلایا جائے گا۔

الحکیم نے یہ بھی کہا کہ ایران کو ہرجانہ ملنا چاہئے کہ اس پر صدام حسین نے آٹھ سال تک جنگ مسلط رکھی۔

ایران کا مطالبہ ہے کہ عراق اسے ایک سو ارب ڈالر ادا بطور ہرجانہ ادا کرے جیسا کہ وہ کویت کو کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا: ’اقوام متحدہ پہلے ہرجانے کی ادائیگی کی منظوری دے چکا ہے۔ لہذا اسے مطمئن کیا جانا ضروری ہے۔ ہم ہرجانے کی ادائیگی پر غور کریں گے۔‘

عبدالعزیز الحکیم کا کہنا تھا کہ مقدمہ کی کارروائی کا جائزہ لینے کے لئے بین الاقوامی مبصرین کو دعوت دی جائے گی اور مقدہ عالمی قانونی اصولوں کے مطابق ہی چلایا جائے گا۔

انہوں نے یہ بیان لندن میں برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا سے ملاقات کے بعد دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلہ پر عمل درآمد کریں گے۔

انہوں نے معزول عراقی صدر کو سزائے دیئے جانے کے سوال پر تبصرے سے گریز کیا۔

اس سے قبل گورننگ کونسل کے ایک اور رکن نے کہا تھا کہ صدام حسین کو بغداد کے آس پاس ہی رکھا گیا ہے۔

ادھر ایران کے صدر محمد خاتمی نے کہا ہے کہ صدام حسین کو سزائے موت نہیں ملنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی انسان کو سزائے موت دیئے جانے کے خلاف ہیں۔ تاہم اگر سزائے موت دینا ہی پڑے تو صدام حسین اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ کمال خرازی نے کہا ہے ایران معزول عراقی صدر کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد