صدام پر نسل کشی کا بھی مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی ٹریبونل نے اعلان کیا ہے کہ سابق صدر صدام حسین کو 1980 میں کردوں کے خلاف کارروائی کے دوران کی جانے والی نسل کشی کے الزامات کا بھی سامنا کرنا ہو گا۔ صدام حسین اور ان کے چھ دیگر ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے اس مہم کے دوران لوگوں کو ہلاک کیا، انہیں گرفتار کیا اور جائیدادیں ضبط کر کے انہیں ملک سے نکال دیا۔ حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دوران ایک لاکھ اسی ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ صدام حسین اور ان کے سات ساتھیوں پر اس وقت دجیل میں ایک سو اڑتالیس افراد کو ہلاک کرنے کے الزام میں مقدمہ جاری ہے۔ عراقی گورننگ کونسل اور اب نئی عراقی پارلیمنٹ کے کرد رکن محمد عثمان نے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کردستان میں جہاں یہ سب کچھ ہوا لوگوں کا ردِ عمل یہ ہے کہ لوگ بہت خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’وہ ہمیشہ موجودہ حکومت اس حوالے سے تنقید کرتے ہیں کہ ان لوگوں پر سنگین جرائم کے مقدمات کیوں نہیں چلائے جا رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان لوگوں کو سزائیں دی جائیں‘۔ بغداد سے بی بی سی کے اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے گروپ سابق عراقی حکومت پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ ’انفعال‘ نامی اس مہم کے دوران صرف حلبجہ میں پانچ ہزار افراد کو زہریلی گیس کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔ تاہم ٹریبونل کا کہنا ہے کہ حلبجہ میں ہلاکتوں کا مقدمہ الگ چلایا جائے گا۔ | اسی بارے میں ’صرف میں ہی جوابدہ ہوں: صدام01 March, 2006 | آس پاس بیان کے لیے صدام عدالت میں12 March, 2006 | آس پاس ’شیعوں کا قتل قانون کے مطابق‘13 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||