صدام : کمرہ عدالت میں اشتعال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کی عدالت میں سابق عراقی صدر صدام حسین کے خلاف کارروائی کا آغاز ہونے کے بعد ان کے ایک ساتھی برزن التکریتی کو کمرہ عدالت سے نکال دیا گیا۔ برزن التکریتی عراق کے سابق انٹیلی جینس چیف تھے۔ انہیں عدالت کے جج سے تلخ کلامی پر سکیورٹی گارڈز گھسیٹ کر عدالت سے باہر لے گئے۔ صدام حسین اور سات دیگر ملزمان پر انیس سو بیاسی میں دجیل کے شیعہ اکثریت والے قصبے میں سابق صدر پر قاتلانہ حملے کے بعد ایک سو اڑتالیس افراد کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ حالیہ پیشیوں میں وکلاء دفاع کے گواہان کے بیانات لیئے جارہے ہیں۔ پیر کی کارروائی ایک ہفتہ کے تعطل کے بعد کی گئی کیونکہ پچھلی کارروائی کے دوران وکلاء دفاع نے تیاری کے لیئے مزید وقت مانگا تھا۔ امریکی وکیل کرٹس ڈوبلر نے شکایت کی ہے کہ ’مقدمہ کو جس انداز سے بھگتایا جارہا ہے اس سے ان کے موکل کو نقصان کا خدشہ ہے‘۔ ان کا کہنا ہے ’ہم انصاف کے لیئے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسا صرف ایک منصفانہ مقدمہ میں ہی کیا جاسکتا ہے اور موجودہ حالات میں ایسا ناممکن نظر آتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ استغاثہ نہ مقدمہ پیش کرنے کے لیئے پانچ ماہ سے بھی زیادہ کا وقت لیا ہے جبکہ دفاع کو جلدی اپنا کیس پیش کرنے کے لیئے زبردستی دھکیلا جارہا ہے تاکہ جلد از جلد مقدمہ کا فیصلہ ہوسکے‘۔ انہوں نے مزید کہا ’ہمارے گواہان کو عدالت ہراساں کررہی ہے‘۔ کارروائی شروع ہونے کے وقت تمام ملزمان عدالت میں موجود تھے۔ اس مقدمہ میں تمام ملزماں نے اپنے جرم سے انکار کرتے ہیں۔ اگر صدام پر جرم عائد کردیا گیا تو انہیں سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ تکریتی کو بار بار جج کے بیان کے دوران مخل ہونے پر عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔ انہوں نے جج کو ’ڈکٹیٹر‘ قرار دیا۔ جو محافظ انہیں نکال رہے تھے تو انہوں نے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش بھی کی۔ ان کے وکیل محمد منیب نے چیخ کر جج سے کہا کہ ’تکریتی کو تمہاری آنکھوں کے سامنے پیٹا جارہا ہے۔ ہم عدالت سے انصاف کی توقع کیسے کرسکتے ہیں‘۔ تکریتی کو مشتعل ہونے پر کئی بار عدالت سے نکالا گیا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دفاع کے گواہان کے بیانات جلد ہی ختم کیئے جانے کی توقع ہے جس کے بعد وکلاء اور ملزمان اپنے آخری بیانات دیں گے۔ امکان ہے کہ جج اگلے ماہ تک مقدمہ کے فیصلے کا اعلان کردیں گے۔ بین الاقوامی ماہرین قانون نے مقدمہ چلائے جانے کے طریقہ پر کڑی تنقید کی ہے۔ عدالت کے پچھلے چیف جج نے جنوری میں اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا جبکہ دو وکلاء دفاع قتل بھی کیئے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں لکھائی صدام کی ہی ہے: ماہرین17 April, 2006 | آس پاس صدام مقدمہ: فون کال کی ریکارڈنگ24 April, 2006 | آس پاس صدام کو چارج شیٹ کر دیا گیا15 May, 2006 | آس پاس صدام حسین پھر سے عدالت میں17 May, 2006 | آس پاس صدام کا ناول ٹوکیو میں دستیاب19 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||