BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 June, 2006, 12:53 GMT 17:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام : کمرہ عدالت میں اشتعال
 برزن التکریتی
تکریتی کو مشتعل ہونے پر کئی بار عدالت سے نکالا گیا ہے
بغداد کی عدالت میں سابق عراقی صدر صدام حسین کے خلاف کارروائی کا آغاز ہونے کے بعد ان کے ایک ساتھی برزن التکریتی کو کمرہ عدالت سے نکال دیا گیا۔

برزن التکریتی عراق کے سابق انٹیلی جینس چیف تھے۔ انہیں عدالت کے جج سے تلخ کلامی پر سکیورٹی گارڈز گھسیٹ کر عدالت سے باہر لے گئے۔

صدام حسین اور سات دیگر ملزمان پر انیس سو بیاسی میں دجیل کے شیعہ اکثریت والے قصبے میں سابق صدر پر قاتلانہ حملے کے بعد ایک سو اڑتالیس افراد کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

حالیہ پیشیوں میں وکلاء دفاع کے گواہان کے بیانات لیئے جارہے ہیں۔

پیر کی کارروائی ایک ہفتہ کے تعطل کے بعد کی گئی کیونکہ پچھلی کارروائی کے دوران وکلاء دفاع نے تیاری کے لیئے مزید وقت مانگا تھا۔

امریکی وکیل کرٹس ڈوبلر نے شکایت کی ہے کہ ’مقدمہ کو جس انداز سے بھگتایا جارہا ہے اس سے ان کے موکل کو نقصان کا خدشہ ہے‘۔

ان کا کہنا ہے ’ہم انصاف کے لیئے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسا صرف ایک منصفانہ مقدمہ میں ہی کیا جاسکتا ہے اور موجودہ حالات میں ایسا ناممکن نظر آتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ استغاثہ نہ مقدمہ پیش کرنے کے لیئے پانچ ماہ سے بھی زیادہ کا وقت لیا ہے جبکہ دفاع کو جلدی اپنا کیس پیش کرنے کے لیئے زبردستی دھکیلا جارہا ہے تاکہ جلد از جلد مقدمہ کا فیصلہ ہوسکے‘۔

انہوں نے مزید کہا ’ہمارے گواہان کو عدالت ہراساں کررہی ہے‘۔

کارروائی شروع ہونے کے وقت تمام ملزمان عدالت میں موجود تھے۔ اس مقدمہ میں تمام ملزماں نے اپنے جرم سے انکار کرتے ہیں۔

اگر صدام پر جرم عائد کردیا گیا تو انہیں سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تکریتی کو بار بار جج کے بیان کے دوران مخل ہونے پر عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔ انہوں نے جج کو ’ڈکٹیٹر‘ قرار دیا۔ جو محافظ انہیں نکال رہے تھے تو انہوں نے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش بھی کی۔

ان کے وکیل محمد منیب نے چیخ کر جج سے کہا کہ ’تکریتی کو تمہاری آنکھوں کے سامنے پیٹا جارہا ہے۔ ہم عدالت سے انصاف کی توقع کیسے کرسکتے ہیں‘۔

تکریتی کو مشتعل ہونے پر کئی بار عدالت سے نکالا گیا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دفاع کے گواہان کے بیانات جلد ہی ختم کیئے جانے کی توقع ہے جس کے بعد وکلاء اور ملزمان اپنے آخری بیانات دیں گے۔

امکان ہے کہ جج اگلے ماہ تک مقدمہ کے فیصلے کا اعلان کردیں گے۔

بین الاقوامی ماہرین قانون نے مقدمہ چلائے جانے کے طریقہ پر کڑی تنقید کی ہے۔ عدالت کے پچھلے چیف جج نے جنوری میں اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا جبکہ دو وکلاء دفاع قتل بھی کیئے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد