صدام کو چارج شیٹ کر دیا گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق عراقی صدر صدام حسین کے مقدمے کے اگلے مرحلے میں ان پر باقاعدہ الزامات عائد کر دیے گئے ہیں۔ مقدمے کے چیف جج نے انیس سو بیاسی میں دجیل میں ہونے والی ایک سو اڑتالیس ہلاکتوں کے سلسلے میں الزامات پڑھ کر سنائے۔ صدام حسین نے عدالت کو تسلیم کرنے اور الزامات کو صحیح یا غلط ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد وکیل صفائی اپنا کیس پیش کریں گے اور درجنوں گواہوں کو پیش کریں گے۔ ایسوسی ایٹڈ پتیس کے مطابق عراق کے عدالتی نظام میں استغاثہ پہلے اپنا کیس پیش کرتا ہے اور جج صفائی کے دلائل سے پہلے الزامات مخصوص کرتے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار جم میور نے بغداد سے بتایا ہے کہ بظاہر صدام حسین پر نو افراد کے قتل کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان پر تین سو ننانوے لوگوں کی حراست اور عورتوں اور بچوں پر تشدد کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جو مبینہ طور پر انہوں نے اپنے اوپر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد کروایا۔ جب جج نے صدام حسین سے الزامات کا جواب دینے کو کہا تو انہوں نے کہا کہ ’میں صرف ہاں یا نہ نہیں کہہ سکتا۔ آپ یہ سب لوگوں کو دکھانے کے لیئے پڑھیں، میں اس کا مختصر جواب نہیں دے سکتا‘۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدام حسین نے کہا کہ ’اس سے میرا بال بھی بیکا نہیں ہو گا۔ آپ عراق کے صدر صدام حسین کے سامنے ہیں۔ میں لوگوں کی مرضی سے عراق کا صدر ہوں اور میں اِس لمحے تک صدر ہوں‘۔ اس پر جج نے صدام حسین کی طرف سے الزامات سے انکار ریکارڈ کرنے کا حکم دیا اور پھر دوسرے ملزمان کے خلاف الزامات پڑھنے میں مصروف ہو گئے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں صدام حسین کے خلاف مقدمہ شروع ہوا تھا اور اب تک اس کی توجہ کا مرکز استغاثہ کے گواہ رہے ہیں۔ اب صفائی فرداً فرداً ہر ملزم کے لیئے اپنا کیس پیش کرے گی۔ اس عمل میں ایک ماہ کا عرصہ لگنے کی امید ہے۔ اس مقدمے کے دوران صفائی کے دو وکلاء قتل ہو چکے ہیں۔ جنوری میں پہلے چیف جج نے استعفیٰ دے دیا جن پر حکومتی اہلکاروں کی جانب سے الزام تھا کہ وہ بہت نرم رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ صفائی کے بعد عدالت وقفہ لے گی اور کیس کا فیصلہ کرے گی۔ چیف پراسیکیوٹر جعفرالموساوی نے اے ایف پی کو بتایا کہ صفائی کے ساٹھ گواہ متوقع ہیں تاہم یہ عدالت پر منحصر ہو گا کہ وہ کتنے گواہوں کو اجازت دیتی ہے۔ اس ہفتے میں تین دن عدالت کی کارروائی جاری رہنے کی توقع ہے۔ استغاثہ نے اپنی شہادتوں کے دوران گواہوں کے علاوہ آڈیو اور ویڈیو ٹیپ بھی استعمال کیے جن کے ذریعے سابق صدر کا دجیل کی ہلاکتوں سے تعلق ثابت کیا گیا۔ ان میں سے ایک ریکارڈنگ میں صدام حسین کی فون پر گفتگو پیش کی گئی جس میں انہوں نے ہلاکتوں کے متعلق سابق نائب صدر طٰحہ یاسین سے بات کی۔ عدالت میں دستخطوں کے ایک ماہر نے ہلاکتوں کے حکم پر کیے گئے دستخطوں کو صدام حسین کے دستخط قرار دیا۔ وکلاء صفائی نے ان دستخطوں کو جعلی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عدالت میں پیش ہونے والے ماہر کا وزارت داخلہ سے تعلق ہے۔ |
اسی بارے میں صدام مقدمہ: فون کال کی ریکارڈنگ24 April, 2006 | آس پاس ’موت کے وارنٹ پر صدام کے دستخط‘19 April, 2006 | آس پاس لکھائی صدام کی ہی ہے: ماہرین17 April, 2006 | آس پاس عراق: خدشات جو حقیقت بن گئے10 April, 2006 | آس پاس امریکہ کےمزاحمت کاروں سے مذاکرات07 April, 2006 | آس پاس دستاویزات جعلی ہیں: صدام حسین05 April, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||