BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 April, 2006, 08:40 GMT 13:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لکھائی صدام کی ہی ہے: ماہرین
صدام حسین
صدام حسین عدالت میں تمام الزامات سے انکار کرتے آئے ہیں
صدام حسین کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں لکھائی کے ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدام نے دجیل میں قتلِ عام سے متعلق دستاویزات پر دستخط کیئے تھے۔

اس ماہ کے اوائل میں عدالت میں موت کے کچھ حکم نامے پیش کیئےگئے تھے جن پر بظاہر صدام حسین کے دستخط ہیں۔

پیر کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت میں استغاثہ نے ماہرین کا ایک بیان پڑھ کر سنایا جس کے مطابق قاتلانہ حملے کے بعد کریک ڈاؤن سے متعلق دستاویزات پر صدام کی لکھائی موجود ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق استغاثہ کا کہنا تھا کہ 1982 کے کریک ڈاؤن میں ملوث خفیہ ایجنٹوں کو انعام دینے کی منظوری کی دستاویز پر صدام کے دستخط ہیں۔

تاہم سماعت کے دوران وکلائے صفائی نے اس بیان پر جرح کی اور لکھائی کے نئے ماہر کی تقرری کا مطالبہ کیا۔ اس جرح کے بعد سماعت بدھ تک ملتوی کر دی گئی۔

صدام اور ان کے ساتھیوں پر دجیل میں قتلِ عام کا الزام ہے

صدام حسین نے شروعات میں تو ان دستاویزات پر دستخط کرنا تسلیم کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ بطور صدر ان کی ذمہ داری تھی تاہم بعد ازاں انہوں نے ان کاغذات اور دستخطوں کی اصلیت پر شک کا اظہار کیا تھا۔

صدام اس سے قبل مارے جانے والے افراد پر مقدمہ چلانے کے حکم دینے کا بھی اقرار کر چکے ہیں اور ان کے مطابق وہ ایک قانونی فیصلہ تھا۔

صدام حسین اور ان کے سات ساتھی کارروائی میں شرکت کے لیئے عدالت میں موجود ہیں۔ ان تمام افراد پر الزام ہے کہ وہ سنہ 1982 میں دجیل کے علاقے میں قتلِ عام کے دوران 148 شیعہ عراقیوں کی ہلاکت میں ملوث ہیں۔

یاد رہے کہ اپریل کے آغاز میں صدام حسین کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے کہا تھا کہ صدام پر قتلِ عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کے نئے الزامات کے تحت ایک نیا مقدمہ چلےگا۔

ان نئے الزامات کا تعلق 80 کے عشرے کے اواخر میں شمالی عراق میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائی سے ہے جس میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ اسّی ہزار افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد