BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 April, 2006, 13:22 GMT 18:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام مقدمہ: فون کال کی ریکارڈنگ
صدام حسین
صدام حسین عدالت میں تمام الزامات سے انکار کرتے آئے ہیں
صدام حسین کے خلاف عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے ایک فون کال کی ریکارڈنگ سنوائی ہے جو ان کے مطابق صدام حسین کی کال تھی اور اس میں انہوں نے بظاہر اپنے ایک ساتھی کے ساتھ شیعہ اکثریتی علاقے میں کریک ڈاؤن کے بارے میں بات کی تھی۔

ٹیلیفون پر صابق عراقی صدر نے بظاہر سابق نائب صدر طحہٰ یاسین کے ساتھ دجیل کے کھیت تباہ کرنے کے متعلق تبادلہ خیال کیا تھا۔

یہ مقدمہ صدام اور ان کے سات ساتھیوں کے خلاف قائم کیا گیا ہے۔ ان تمام افراد پر الزام ہے کہ وہ صدام حسین پر ایک قاتلانہ حملے کے بعد دجیل میں کیئے گئے قتلِ عام میں ملوث ہیں جس میں 148 شیعہ افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔

عدالت میں سنوائی گئی فون کال کی ریکارڈنگ میں بظاہر عراقی نائب صدر کہہ رہے ہیں کہ دجیل میں فارم لینڈ اور ایک اور علاقے کی تباہی تقریباً مکمل ہوگئی ہے اور اس علاقے کے مالکان کو اس کا معاوضہ ادا کردیا جائے گا۔ اس بات چیت میں ’مشتبہ عناصر‘ کو دجیل سے ’ہٹانے‘ اور ان کی جگہ ’متبادل‘ لانے کی بھی بات کی گئی ہے۔

اس کال میں جس آواز کو صدام حسین سے منصوب کیا جارہا ہے وہ واضح طور پر نہیں سنی جاسکتی اور یہ معلوم نہیں ہورہا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

اگلی عدالتی کارروائی 15 مئی تک کے لیئے موخر کردی گئی ہے۔

اس سے قبل لکھائی کا تجزیہ کرنے والے ماہرین نے کہا تھا کہ تجزیے سے ثابت ہوا ہے کہ 1982 میں دجیل میں 148 افراد کی ہلاکت کے احکام صدام حسین ہی نے جاری کیئے تھے۔

استغاثہ اب تک عدالت میں ہزاروں ایسے دستاویزات پیش کرچکا ہے جن سے صدام حسین کا تعلق ان ہلاکتوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ صدام نے تحریری طور پر قتل عام کی اجازت دی تھی۔

وکلائے دفاع کا اصرار تھا کہ یہ دستخط جعلی ہیں۔ انہوں نے استغاثہ کے جانبدار ہونے کا سوال بھی اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ اس سازش میں عراق کی وزارت داخلہ کا ہاتھ ہے۔
پچھلی سماعت میں جج نے عدالت کو بتایا تھا کہ ماہرین کے مطابق دستاویزات پر صدام کے اصلی دستخط اور لکھائی موجود ہے۔

ابھی یہ دستاویزات عوامی طور پر جاری نہیں کیئے گئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ دجیل میں 148 افراد کے موت کے وارنٹ پر صدام کے دستخط موجود ہیں۔

صدام حسین نے شروع میں تو ان دستاویزات پر دستخط کرنا تسلیم کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ بطور صدر ان کی ذمہ داری تھی تاہم بعد ازاں انہوں نے ان کاغذات اور دستخطوں کی اصلیت پر شک کا اظہار کیا تھا۔

اگر صدام حسین مجرم قرار پائے تو انہیں سزائے موت کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد