صدام حسین پھر سے عدالت میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق عراقی صدر صدام حسین اپنے سات ساتھیوں کے سات قتل اور تشدد کے الزامات کے مقدمہ میں ایک بار پھر بغداد کی عدالت میں موجود ہیں۔ منگل کی عدالتی کارروائی میں صدام حسین کو شامل نہیں کیا گیا تھا کیونکہ اس کارروائی کا مقصد تین ایسے ملزمان پر عدالت توجہ مرکوز رکھنا تھا جو زیادہ جانے پہچانے نہیں ہیں۔ تاہم جج رؤف عبدالرحمان نے ’انصاف کے تقاضے‘ پورے کرنے کے لیئے بدھ کو صدام کو عدالت میں پیش ہونے کی اجازت دے دی۔ پردہ کے پیچھے سے بیان دینے والے گواہوں نے سابق سیاسی جماعت کے تین اہلکاروں کے حق میں بیان دیئے جن پر صدام حسین کے ساتھ الزامات عائد کیئے گئے ہیں۔ صدام حسین کے وکلاء دفاع کو شکایت تھی کہ منگل کی کارروائی میں صدام کو شامل نہیں کیا گیا جس کے باعث ان کے موکل عدالت میں پیش کیئے جانے والے شواہد پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرسکے۔ پیر کے روز تمام ملزمان عدالت میں پیش کیئے گئے تھے۔ پیر ہی سے الزامات کے دفاع کا مرحلہ شروع کیا گیا۔ مقدمے کے چیف جج نے انیس سو بیاسی میں دجیل میں ہونے والی ایک سو اڑتالیس ہلاکتوں کے سلسلے میں الزامات پڑھ کر سنائے۔ صدام حسین نے عدالت کو تسلیم کرنے اور الزامات کو صحیح یا غلط ماننے سے انکار کر دیا۔
گزشتہ سال اکتوبر کو صدام حسین کے خلاف مقدمہ شروع ہوا تھا اور اب تک اس کی توجہ کا مرکز استغاثہ کے گواہ رہے ہیں۔ اب وکلاء صفائی فرداً فرداً ہر ملزم کے لیئے اپنا کیس پیش کررہے ہیں۔ منگل کو پیش کیئے گئے گواہان نے تین ملزمان کو اچھے فرد قرار دیا اور کہا کہ یہ اتنے سینیئر اہلکار نہیں ہیں کہ اتنے بڑے واقعے کی ذمہ داری ان پر عائد کی جاسکے۔ اس مقدمے کے دوران صفائی کے دو وکلاء قتل ہو چکے ہیں۔ جنوری میں پہلے چیف جج نے استعفیٰ دے دیا جن پر حکومتی اہلکاروں کی جانب سے الزام تھا کہ وہ بہت نرم رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ صفائی کے بعد عدالت وقفہ لے گی اور کیس کا فیصلہ کرے گی۔ چیف پراسیکیوٹر جعفرالموساوی نے اے ایف پی کو بتایا کہ صفائی کے ساٹھ گواہ متوقع ہیں تاہم یہ عدالت پر منحصر ہو گا کہ وہ کتنے گواہوں کو اجازت دیتی ہے۔ اس ہفتے میں تین دن عدالت کی کارروائی جاری رہنے کی توقع ہے۔ استغاثہ نے اپنی شہادتوں کے دوران گواہوں کے علاوہ آڈیو اور ویڈیو ٹیپ بھی استعمال کیے جن کے ذریعے سابق صدر کا دجیل کی ہلاکتوں سے تعلق ثابت کیا گیا۔ ان میں سے ایک ریکارڈنگ میں صدام حسین کی فون پر گفتگو پیش کی گئی جس میں انہوں نے ہلاکتوں کے متعلق سابق نائب صدر طٰحہ یاسین سے بات کی۔ عدالت میں دستخطوں کے ایک ماہر نے ہلاکتوں کے حکم پر کیے گئے دستخطوں کو صدام حسین کے دستخط قرار دیا۔ وکلاء صفائی نے ان دستخطوں کو جعلی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عدالت میں پیش ہونے والے ماہر کا وزارت داخلہ سے تعلق ہے۔ |
اسی بارے میں صدام مقدمہ: فون کال کی ریکارڈنگ24 April, 2006 | آس پاس ’موت کے وارنٹ پر صدام کے دستخط‘19 April, 2006 | آس پاس لکھائی صدام کی ہی ہے: ماہرین17 April, 2006 | آس پاس عراق: خدشات جو حقیقت بن گئے10 April, 2006 | آس پاس امریکہ کےمزاحمت کاروں سے مذاکرات07 April, 2006 | آس پاس دستاویزات جعلی ہیں: صدام حسین05 April, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||