صدام غیر حاضر، مقدمہ جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین کے خلاف مقدمے کی کارروائی ان کے اور ان کے وکیل کی غیر موجودگی میں دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ جب عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو مقدمے کے آٹھ میں سے صرف تین ملزمان عدالت میں موجود تھے۔ وکلائے صفائی کا موقف ہے کہ کردستان سے تعلق رکھنے والے جج کو مقدمے کی سماعت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ان کا تعلق اس گاؤں سے ہے جہاں انیس سو اٹھاسی میں زہریلی گیس استعمال کی گئی تھی۔ عراق کے صدر اور سات دیگر ملزمان پر الزام ہے کہ وہ انیس سو بیاسی میں ایک سو اڑتالیس شعیہ دیہاتیوں کے قتل میں ملوث تھے۔ تمام ملزمان ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ اس سے پہلے وکیل صفائی خلیل دلیمی نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا ان کی ٹیم مقدمے کی کارروائی کا اس وقت تک بائیکاٹ جاری رکھیں گے جب تک ان کے مطالبات منظور نہیں ہوتے۔ دلیمی نے گیارہ مطالبات پیش کیے تھے جن میں مقدمے کی کارروائی کسی ایسے ملک میں منتقلی بھی شامل تھی جو ’سلامتی کی صورتحال بہتر ہو‘۔ مقدمے کی ابتدا کے وقت بنچ کر سربراہی جج رؤف عبدالرحمان کر رہے تھے لیکن انہوں نے جنوری میں اپنے اوپر اس تنقید کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا کہ ملزمان کے ساتھ ان کا رویہ نرم تھا۔ ان کی جگہ رزگر نعیم نے لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کارروائی میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے۔ گزشتہ اتوار کو کارروائی کے دوران جج نعیم نے سخت رویہ اپنایا اور کہا تھا کہ وہ سیاسی بیانات کی اجازت نہیں دیں گے۔ | اسی بارے میں صدام مقدمہ: نیا جج، سماعت مؤخر24 January, 2006 | آس پاس صدام مقدمہ: بدنظمی، واک آؤٹ29 January, 2006 | آس پاس صدام کے مقدمے کا نیا جج مقرر23 January, 2006 | آس پاس صدام حسین مقدمہ، جج کا استعفیٰ15 January, 2006 | آس پاس ہم نہیں، وائٹ ہاؤس جھوٹا: صدام22 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||