صدام کی عدالت میں خاموشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق عراقی صدر صدام حسین نے نسل کُشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر عدالت میں خاموشی اختیار کر لی ہے۔ بغداد میں سات ملزمان کو انیس سو ستاسی میں کرد مخالف کارروائی کے سلسلے میں الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سماعت کے دوران بتایا گیا کہ ایک لاکھ بیاسی ہزار افراد اس کارروائی میں ہلاک ہوئے تھے۔ صدام حسین اور سات دیگر ملزمان کا انیس سو بیاسی میں شعیوں کو دوجیل کے مقام پر قتل کرنے کے واقعے میں مقدمہ مکمل ہوچکا ہے۔ اس کا فیصلہ سولہ اکتوبر کو متوقع ہے۔ اس تازہ مقدمے میں ساتوں ملزمان عدالت میں موجود تھے۔ صدام کی جانب سے خاموشی پر جج نے خود ہی ان کی جگہ ان کے بےقصور ہونے کا موقف دائر کر دیا۔ اس کرد مخلف کارروائی کی وجہ سے صدام حسین کے کزن علی حسن الماجد کو ’کیمیکل علی‘ کا نام دیا گیا تھا۔ انہوں نے بھی عدالت میں اس معاملے پر خاموشی اختیار کرلی۔ دیگر ملزمان میں سابق وزیر دفاع سلطان ہاشم احمد، سابق انٹیلیجنس سربراہ صابر عبدالعزیز اور چند دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔ ان تمام ملزموں کو پر جرم ثابت ہونے پر سزائے موت ہوسکتی ہے۔ | اسی بارے میں ’عراق صورتحال جنگ سے بدتر‘28 February, 2006 | صفحۂ اول عراق: متعدد دھماکے،66 ہلاک12 March, 2006 | صفحۂ اول ’عراق کے لیے قربان ہوا ہوں‘22 August, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||