’عراق پر حملے کے بعد صورتحال بدتر ہوئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کے مختلف ممالک میں رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق لوگوں کا خیال ہے کہ عراق پر امریکی حملے اور جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر دہشت گرد حملوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ بی بی سی کا یہ سروے پینتیس ممالک میں گیا گیا ۔ اس میں ساٹھ فیصد افراد کا خیال تھا کہ عراق میں جنگ کی وجہ سے دہشت گرد حملوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ صرف بارہ فیصد افراد کا خیال تھا کہ اس جنگ سے دہشت گرد حملوں کے امکانات کم ہوئے ہیں۔ بیشتر ممالک میں لوگوں کا خیال تھا کہ صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے کا فیصلہ غلط تھا۔ بی بی سی ورلڈ سروس کے اس سروے میں پینتالیس ہزار آٹھ سو چھپن افراد کی رائے معلوم کی گئی۔ پینتیس میں سے بیس ممالک میں لوگوں کا خیال تھا کہ امریکی اور برطانوی فوجوں کو اگلے چند ماہ تک عراق سے نکل جانا چاہیے۔ نو ممالک میں لوگوں کی رائے تھی کہ ان فوجیوں کو حالات کے سنبھلنے تک عراق میں رکنا چاہیے جبکہ باقی چھ ممالک میں لوگوں کی رائے بٹی ہوئی تھی۔ جن ممالک میں لوگوں کی غیر ملکی فوجوں کی واپسی کے لئے سب سے زیادہ حمایت پائی گئی ان میں آرجنٹینا، مصر، چین اور برازیل شامل تھے۔ یہ سروے رائے عامہ کا جائزہ کرنے والی کمپنی ’گلوب سکین‘ نے بی بی سی کے لئے کیا تھا۔ گلوب سکین کے صدر ڈگ ملر نے سروے کے بارے میں کہا ’ اس سروے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر شہریوں کا خیال ہے کہ مغربی رہنماؤں نے عراق پر حملہ کر کے ایک بڑی غلطی کی جس سے دہشت گردی کے خلاف ان کی جنگ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔‘ |
اسی بارے میں عراق: سروے رپورٹ ، پر امید عوام16 March, 2004 | صفحۂ اول ’ملک ہماری مرضی سے نہیں چلتا‘15 September, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||