’ملک ہماری مرضی سے نہیں چلتا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا میں رائے عامہ کے سب سے بڑے جائزے میں زیادہ تر لوگوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ان کا ملک ان کی مرضی اور منشا کے مطابق نہیں چلایا جارہا ہے۔ سروے میں عالمی رائے عامہ کے کئی اہم پہلو سامنے آئے ہیں۔ سروے کے مطابق پاکستانیوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ ان کے لیے قومیت سے زیادہ مذہب اہم ہے جبکہ بھارت میں اکثریت کی رائے میں سیاست دانوں سے زیادہ قابلِ اعتبار پولیس اور فوج ہے۔ پاکستان میں پچپن فیصد افراد کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے مذہبی رہنماؤں پر اعتبار ہے جبکہ بیالیس فیصد صحافیوں پر اور اکتیس فیصد سیاست دانوں اور کاروباری لوگوں پر اعتبار کرتے ہیں جبکہ پولیس اور فوج پر یقین کرنے والوں کی تعداد سب سے کم یعنی انتیس فیصد ہے۔ بھارت میں اکسٹھ فیصد کا کہنا تھا کہ فوج اور پولیس سیاست دانوں کے مقابلے زیادہ قابلِ اعتبار ہے جبکہ اٹھاون فیصد رائے دینے والوں کے نزدیک صحافی سیاست دانوں سے زیادہ معتبر ہیں۔ یہ جائزہ بی بی سی نے گیلپ انٹرنیشل وائس آف دی پیپل کے ذریعے کرایا ہے جس میں اڑسٹھ ملکوں کےپچاس ہزار لوگوں سے سوالات پوچھے گۓ تھے۔لوگوں کے جوابات سے پتہ چلتا ہے کہ پینسٹھ فیصد لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی حکومتیں ان کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ سابق سوویت بلاک میں یہ رائے رکھنے والوں کی تعداد پچھتر فیصد ہے۔ صرف سکینڈینیویا اور جنوبی افریقہ میں عوام کی اکثریت کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ان کی مرضی اور منشا کے ساتھ چل رہا ہے۔ جن لوگوں سے سوال پوچھے گۓ تھے ان میں آدھے سے ذرا کم کا کہنا تھا کہ ان کے ملکوں میں انتخابات آزاد اور منصفانہ تھے۔ لیکن جیسا کہ رائے عامہ کے جائزوں میں ہوتا ہے کہ مختلف علاقوں میں رائے میں فرق نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر یورپی یونین کے ملکوں میں بیاسی فیصد کا کہنا تھا کہ انتخابات آزاد اور منصفانہ تھے، جنوبی افریقہ میں چھیئتر فیصد کا یہی خیال تھا جبکہ شمالی افریقہ میں صرف چوبیس فیصد کی یہ رائے تھی۔ سینتالیس فیصد کی یہ رائے تھی کہ ان کے ملک میں انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوتے ہیں۔ تاہم امریکہ اور کینیڈا میں پچپن فیصد نے کہا کہ ان کے ملک میں انتخابات منصفانہ اور آزاد ہوتے ہیں۔ سیاست دانوں کو جس بات پر تشویش ہونی چاہۓ وہ یہ ہے کہ ان پر بہت کم لوگوں کو اعتبار ہے یعنی صرف تیرہ فیصد افراد کو اور صرف سولہ فیصد ہیں جو کہتے ہیں کہ سیاست دانوں کو زیادہ اختیارات ملنے چاہئیں۔ جائزے کے مطابق زیادہ اختیارات کے لائق ادیبوں اور دانشوروں کو سمجھا گیا ہے۔ مذہبی رہنماؤں اور فوجی لیڈروں کے بارے میں بھی نیک خیالات ظاہر کئے گئے ہیں بلکہ تعجب کی بات ہے کہ بعض علاقوں میں صحافیوں کے بارے میں بھی ۔ یعنی سیاست دانوں کے سوا ہر ایک قابل اعتبار ہے۔ ایک چوتھائی افراد کا کہنا تھا کہ اختیار مذہبی رہنماؤں کو ملنا چاہیئے اور یہ وہ گروہ بھی ہے جس پر عوام کو سب سے زیادہ اعتبار ہے۔ اس جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں پر سب سے زیادہ اثر ان کے خاندان کا ہوتا ہے۔ اکسٹھ فیصد کی یہ رائے تھی کہ ان کے پارٹنر یا ان کے خاندان کے کسی فرد کا گزشتہ برس ان کی زندگی کے کسی اہم فیصلے میں بڑا کردار تھا۔ میکسیکو میں یہ تناسب اٹھاسی فیصد تھا جبکہ شمالی امریکہ میں صرف پیتیس فیصد۔ یہ کہ لوگ کس حد تک اپنی زندگی کو کنٹرول کرتے ہیں اس سوال پر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کے افراد کے جوابات میں بڑا فرق پایا گیا۔ افریقہ، ایشیا پیسفک اور سابق روسی بلاک میں لوگوں کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی زندگیوں پر انتہائی کم کنٹرول ہے۔ تاہم شمالی امریکہ میں پینسٹھ فیصد، کینیڈا اور امریکہ میں باسٹھ فیصد اور یورپ میں ترپن فیصد کا خیال تھا کہ انہیں اپنی زندگیوں پر کنٹرول ہے۔ سروے میں ایک تہائی افراد نے اپنی شناخت اپنی قومیت کے ذریعے کرانا چاہی جبکہ سروے میں شریک ہونے والوں کے پانچویں حصے مذہب سے اپنی شناخت کرانے کا حامی نظر آیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||