فوج کی کمان عراق حکومت کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں اتحادی فوجوں نے عراقی سکیورٹی دستوں کی کمان حکومت کے حوالے کردی ہے۔ عراقی سکیورٹی دستوں کا کنٹرول ابھی تک نوری المالکی حکومت کے پاس نہیں تھا اور کنٹرول حوالے کرنے کو اتحادی فوجوں کے اہلکار ایک تاریخی موقع قرار دے رہے ہیں۔ ابتداء میں صرف عراق کی مختصر سی بحریہ اور فضائیہ کی کمان عراقی حکومت کے حوالے کی گئی ہے۔ دونوں کے ساتھ زمینی دستوں کے آٹھویں ڈویژن کی کمان بھی عراقیوں نے سنبھال لی ہے جس کا ہیڈکوارٹر ملک کے جنوب میں نجف شہر میں ہے۔ امریکی حکام کے مطابق آئندہ مہینوں میں مزید فوج کی کمان بھی عراقیوں کے حوالے کی جائے گی لیکن بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق یہ ایک طویل اور مشکلات سے بھرپور عمل ہوگا۔ سن دو ہزار تین میں امریکی قبضے اور صدام حکومت کے خاتمے کے بعد عراق کی فوج اور دیگر سکیورٹی محکمے ختم کردیے گئے تھے۔ اس وقت سے آج تک اتحادی افواج کے حکام کے بقول وہ ملک کی سکیورٹی کا انتظام عراقیوں کے حوالے کردینے کے نقطۂ نظر سے عراقی دستوں کو تربیت دے رہے تھے تاکہ بالآخر غیرملکی دستے عراق سے نکل سکیں۔ مبصرین کے مطابق کمان سنبھالنے کے بعد ہی عراقی دستوں کی اصل آزمائش ہوگی کہ آیا وہ ملک میں سلامتی کی انتہائی بگڑتی ہوئی صورتحال کو سنبھال بھی سکیں گے یا نہیں۔ دریں اثناء تشدد کے تازہ ترین واقعات میں دارالحکومت بغداد میں ایک خودکش حملے دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ | اسی بارے میں بغداد تشدد ، 27 ہلاک، تیس زخمی06 September, 2006 | آس پاس جیل ’ابوغریب‘ عراق کے حوالے03 September, 2006 | آس پاس کربلا: 11 پاکستانی زائرین ہلاک02 September, 2006 | آس پاس ’عراق کی صورت حال تشویشناک‘01 September, 2006 | آس پاس عراق بم دھماکوں میں 38 ہلاکتیں30 August, 2006 | آس پاس امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کا جائزہ 25 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||