BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 November, 2006, 04:09 GMT 09:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات: ٹینیسی میں کانٹے کی ٹکر

سیاہ فام ڈیموکریٹ امیدوار ہیرولفورڈ جونیئر
انتخابات میں امریکی کانگریس پر اپنا کنڑول برقرار رکھنے کیلئے صدر جارج بش کی ریپبلیکن پارٹی اپنی آخری سر توڑ کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔ امریکی ایوانِ بالا یعنی سنیٹ میں اپنی عددی برتری قائم رکھنے کیلئے ریپبلیکن پارٹی کو جن تین ریاستوں میں سخت مقابلے کا سامنا ہے ان میں جنوبی ریاست ٹینیسی غیرمعمولی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔

ٹینیسی امریکہ کی ان قدامت پسند جنوبی ریاستوں میں سے ہے جہاں پچھلے باہ برسوں کے دوران صرف ریپبلیکن امیدوار ہی سینٹ کیلئے منتخب کیے گئے۔ اس بار یہاں کانٹے کا مقابلہ ہے۔

ایک طرف سفید فام ریپبلیکن امیدوار بزنسمین باب کارکر ہیں۔ان کا مقابلہ سیاہ فام ڈیموکریٹ امیدوار ہیرولفورڈ جونیئر سے ہے۔ وہ پچھلے دس برس سے میمفس سے رکنِ کانگریس رہے ہیں۔

شہر میمفس کی دنیا میں شہرت کی وجہ راک اینڈ رول موسیقی کے بادشاہ ایلوس پریسلی ہیں جنہوں نے یہیں سے اپنے فن کے آغاز کیا۔ سن ساٹھ کی دہائی میں امریکہ میں نسلی تعصب کے خلاف ایفرو امریکیوں کی ملک گیر تحریک میں بھی میمفس کا اہم کردار رہا۔ موہن داس کرم چند گاندھی کے عدم تشدد کے نظریے سے متاثر امریکہ میں اس تحریک کے روحِ رواں ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کا قتل بھی میمفس شہر میں ہوا۔

سیاہ فاہم امیدوار کی جیتنا اہم ہوگا
 اس بار اگر سیاہ فام ڈیموکریٹ امیدوار ہیرولڈ فورڈ جونیئر یہاں سے انتخاب جیتتے ہیں تو ٹینیسی جیسی قدامت پسند ریست سے ایک ایفرو امریکی کا سنیٹ میں پہنچنا اپنے آپ میں ایک غیرمعمولی بات ہوگی۔ ان کے حامی انہیں امریکہ میں سیاسی تبدیلیوں کی علامت اور نئی نسل کے نمائندے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اس بار اگر سیاہ فام ڈیموکریٹ امیدوار ہیرولڈ فورڈ جونیئر یہاں سے انتخاب جیتتے ہیں تو ٹینیسی جیسی قدامت پسند ریست سے ایک ایفرو امریکی کا سنیٹ میں پہنچنا اپنے آپ میں ایک غیرمعمولی بات ہوگی۔ ان کے حامی انہیں امریکہ میں سیاسی تبدیلیوں کی علامت اور نئی نسل کے نمائندے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

لیکن اس وقت ریپبلیکن امیدوار ٹینیسی کے قدامت پسند ووٹروں میں خاصے مقبول ہیں۔ ان کے انتخابی وعدوں میں ٹیکسوں میں کمی، اسقاطِ حمل پر پابندی، اور ہتھیار رکھنے کی آزادی جیسے موضوعات شامل ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ڈیموکریٹ امیدوار بھی لوگوں سےکچھ اسی قسم کے وعدے کر رہے ہیں۔وہ بھی چاہتے ہیں کہ ٹیکسوں میں کمی رکھی جائے، ہتھیار رکھنے کا ہر ایک کو حق ہو اور ہم جنس پرست شادیوں پر پابندی ہو۔

یوں مذہبی قسم کے دونوں امیدواروں میں سوائے ان کے رنگ و نسل اور پارٹیوں کے کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔

باقی امریکہ کی طرح ریاست ٹینیسی میں بھی عام تاثر یہ ہے کہ ڈیموکریٹس کی زیادہ حمایت شہری علاقوں میں ہے جبکہ دیہی علاقوں کے اکثر لوگ ریپبلیکن پارٹی کا ساتھ دے رہے ہیں۔

رائے عامہ کے جائزے بتاتے ہیں کہ ٹینیسی میں مقابلہ سخت رہے گا۔ یہاں کچھ ووٹر ایسے بھی ہیں جنہوں نے ابھی تک اپنی رائے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ایسے ووٹروں میں جنگِ عراق پر خاصی بے چینی پائی جاتی ہے۔ قوی امکان یہی ہے کہ یہاں سے سنیٹ کی نشست کا فیصلہ امریکہ کے داخلی یا سماجی موضوعات نہیں بلکہ شاید عراق کے حالات ہی کریں گے۔

اسامہ بن لادنضمنی الیکشن
امریکی انتخابات میں اسامہ کا استعمال
صدر بش اور سینیٹر جارج ایلن ریاست ورجینیا:
ریپبلکن پارٹی کے ایک انتخابی اجلاس میں۔۔۔
اوہائیواوہائیو:انتخابی نبض
’اوہائیو والے راضی تو سارا امریکہ راضی‘
 بش سب سے بڑا خطرہ
لوگ بش، اسامہ دونوں کو خطرناک سمجھتے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد