انتخابات: ٹینیسی میں کانٹے کی ٹکر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتخابات میں امریکی کانگریس پر اپنا کنڑول برقرار رکھنے کیلئے صدر جارج بش کی ریپبلیکن پارٹی اپنی آخری سر توڑ کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔ امریکی ایوانِ بالا یعنی سنیٹ میں اپنی عددی برتری قائم رکھنے کیلئے ریپبلیکن پارٹی کو جن تین ریاستوں میں سخت مقابلے کا سامنا ہے ان میں جنوبی ریاست ٹینیسی غیرمعمولی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ ٹینیسی امریکہ کی ان قدامت پسند جنوبی ریاستوں میں سے ہے جہاں پچھلے باہ برسوں کے دوران صرف ریپبلیکن امیدوار ہی سینٹ کیلئے منتخب کیے گئے۔ اس بار یہاں کانٹے کا مقابلہ ہے۔ ایک طرف سفید فام ریپبلیکن امیدوار بزنسمین باب کارکر ہیں۔ان کا مقابلہ سیاہ فام ڈیموکریٹ امیدوار ہیرولفورڈ جونیئر سے ہے۔ وہ پچھلے دس برس سے میمفس سے رکنِ کانگریس رہے ہیں۔ شہر میمفس کی دنیا میں شہرت کی وجہ راک اینڈ رول موسیقی کے بادشاہ ایلوس پریسلی ہیں جنہوں نے یہیں سے اپنے فن کے آغاز کیا۔ سن ساٹھ کی دہائی میں امریکہ میں نسلی تعصب کے خلاف ایفرو امریکیوں کی ملک گیر تحریک میں بھی میمفس کا اہم کردار رہا۔ موہن داس کرم چند گاندھی کے عدم تشدد کے نظریے سے متاثر امریکہ میں اس تحریک کے روحِ رواں ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کا قتل بھی میمفس شہر میں ہوا۔
لیکن اس وقت ریپبلیکن امیدوار ٹینیسی کے قدامت پسند ووٹروں میں خاصے مقبول ہیں۔ ان کے انتخابی وعدوں میں ٹیکسوں میں کمی، اسقاطِ حمل پر پابندی، اور ہتھیار رکھنے کی آزادی جیسے موضوعات شامل ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ڈیموکریٹ امیدوار بھی لوگوں سےکچھ اسی قسم کے وعدے کر رہے ہیں۔وہ بھی چاہتے ہیں کہ ٹیکسوں میں کمی رکھی جائے، ہتھیار رکھنے کا ہر ایک کو حق ہو اور ہم جنس پرست شادیوں پر پابندی ہو۔ یوں مذہبی قسم کے دونوں امیدواروں میں سوائے ان کے رنگ و نسل اور پارٹیوں کے کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔ باقی امریکہ کی طرح ریاست ٹینیسی میں بھی عام تاثر یہ ہے کہ ڈیموکریٹس کی زیادہ حمایت شہری علاقوں میں ہے جبکہ دیہی علاقوں کے اکثر لوگ ریپبلیکن پارٹی کا ساتھ دے رہے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزے بتاتے ہیں کہ ٹینیسی میں مقابلہ سخت رہے گا۔ یہاں کچھ ووٹر ایسے بھی ہیں جنہوں نے ابھی تک اپنی رائے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ایسے ووٹروں میں جنگِ عراق پر خاصی بے چینی پائی جاتی ہے۔ قوی امکان یہی ہے کہ یہاں سے سنیٹ کی نشست کا فیصلہ امریکہ کے داخلی یا سماجی موضوعات نہیں بلکہ شاید عراق کے حالات ہی کریں گے۔ |
اسی بارے میں عراق نہیں چھوڑیں گے: صدر بش 22 October, 2006 | آس پاس ایران پر صدر بش کی شدید تنقید27 October, 2006 | آس پاس ایذا رسانی کی بحث میں بش کود پڑے28 October, 2006 | آس پاس بش اور المالکی کی ویڈیو کانفرنس29 October, 2006 | آس پاس ریپبلکن پارٹی کے انتخابی اجلاس میں ۔۔۔30 October, 2006 | آس پاس بغداد میں پولیس کو 83 لاشیں ملیں 04 November, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||