BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 November, 2006, 00:01 GMT 05:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد میں پولیس کو 83 لاشیں ملیں
فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے
بغداد میں پولیس کا کہنا ہے کہ اسے چھتیس گھنٹوں کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے 83 لاشیں ملی ہیں جن میں سے کچھ پر تشدد کے نشانات ہیں۔

بغداد کی پولیس کو جمعرات اور جمعہ کی صبح کے درمیان 56 لاشیں ملیں تھیں جبکہ جمعہ کے دن مزید 27 لاشیں ملیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے متعدد افراد فرقہ وارانہ تشدد کے شکار ہوئے جبکہ کچھ افراد کو تاوان کے لئے قبضے میں لینے والے گروہوں نے ہلاک کردیا۔

پولیس لیفٹننٹ محمد خیان نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ جو 56 افراد ہلاک ہوئے ان میں سے تمام مرد تھے جن کی عمر بیس سے پینتالیس سال کے درمیان تھی۔

یہ تمام افراد سویلین لباس میں تھے اور ان کے ہاتھ اور پیر بندھے ہوئے تھے۔ ابھی ان افراد کی شناخت نہیں ہوئی ہے۔

دریں اثنا عراقی فوج نے تمام فوجیوں کو چھٹیوں سے واپس ڈیوٹی پر بلالیا ہے اور انہیں الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اتوار کے روز صدام حسین کے مقدمے میں فیصلہ سنایا جانا ہے۔

امید کی جارہی ہے کہ عراقی ہائی ٹریبیونل جو صدام حسین پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کی سماعت کررہا ہے، اتوار کو اپنا فیصلہ سنائے گا۔

اس مقدمے میں صدام حسین اور ان کے دیگر ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے دجیل نامی گاؤں میں شیعہ برادری کے 148 افراد کا اس لئے قتل کردیا کیوں کہ صدام حسین پر ایک قاتلانہ کوشش کی گئی تھی۔

اسی بارے میں
بغداد: ایک دن میں 56 لاشیں
03 November, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد