بغداد میں دھماکہ، انتیس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں ایک بم دھماکے میں کم سے کم انتیس افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ پیر کے روز دھماکہ صدر بازار کے گنجان علاقے میں ہوا جو کہ شیعہ ملیشیا کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ بم کوڑے کے ڈبے میں رکھا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد مزدوروں کی تھی جو الصبح کام کی تلاش میں شہر میں جمع ہوتے ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حملے میں کس کا ہاتھ تھا لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حملے کے لیے سنی جنگجوؤں پر شک کیا جائے گا۔ صدر سٹی کا علاقہ امریکی فوج کے گھیرے میں ہے جو اغوا کیے جانے والے ایک امریکی فوجی کو تلاش کر رہے ہیں۔ عراق مسلسل دھماکوں اور حملوں کی زد میں ہے جس میں آئے دن درجنوں لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ عراق میں حکام ایک سے زیادہ بار ملک میں خانہ جنگی کے خطرے کا بھی ذکر کر رہے ہیں اور کچھ کے نزدیک یہ روز روز کے بم دھماکے جن کا الزام مختلف فرقہ وارانہ تنظیموں پر عائد کیا جاتا ہے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک میں خانہ جنگی شروع ہے۔ | اسی بارے میں 655000 عراقی ہلاک ہوئے: سروے11 October, 2006 | آس پاس عراق: بم حملے میں چار ہلاک18 October, 2006 | آس پاس عراق: 15 عراقی 5 امریکی ہلاک15 October, 2006 | آس پاس عراق: بم دھماکوں میں 17 ہلاک 22 October, 2006 | آس پاس عراق: 6 امریکی اور 8 دیگر ہلاک24 October, 2006 | آس پاس عراق: 13 رنگروٹوں سمیت 16ہلاک22 October, 2006 | آس پاس عراقی پولیس کے بارہ اہلکار ہلاک27 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||