عراق: برطانوی حکومت بچ گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی پارلیمنٹ میں عراق جنگ کے سلسلے میں حکومت کی کارکردگی پر فوری تحقیات کرانے کی تجویز نا کام ہو گئی ہے۔ یہ تجویز سکاٹ لینڈ اور ویلز کی دو بڑی علاقائی جماعتوں کی طرف سے پیش کی گئی تھی اور حکمراں لیبر پارٹی کے بارہ اراکین پارلیمنٹ نے اس کی حمایت کی۔ حزب اختلاف کی جماعت کنزروٹیو پارٹی نے اس قرارداد کی حمایت کی۔ حکومت صرف پچیس ووٹوں سے اس مطالبے سے بچ گئی۔ 298 اراکین نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 273 نے اس کی مخالفت کی۔ ووٹنگ کے بعد برطانوی وزیر خارجہ مارگرٹ بیکٹ نے اس بارے میں ایوان میں کہا کہ ایسی تحقیقات پر اس وقت ہو جانا مناصب نہیں تھا اور اس سے لوگوں کو غلط پیغام ملتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے الفاظ بہت دور تک سنائی دیتے ہیں۔ یہ عراق میں موجود ہماری فوج کو بھی سنائی دے سکتے ہیں جو پہلے ہی بہت خطرے میں ہیں۔‘ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عراق جنگ پر چار تحقیات ہو چکے ہیں اور ایک اور تحقیق اس وقت ممکن ہوگی جب برطانوی افواج عراق سے نکل آئیں۔ | اسی بارے میں عراقی ہلاکتوں پر سروے غلط: برطانیہ12 October, 2006 | آس پاس ’عراقی جنگ مجرمانہ جارحیت‘24 March, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||