BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 October, 2006, 13:31 GMT 18:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی ہلاکتوں پر سروے غلط: برطانیہ
ہلاکتوں کی تعداد پر اتفاق نہیں
برطانیہ نے اس سروے کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ عراق پر حملوں کے نتیجے میں ساڑھے چھ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

برطانوی وزیر خارجہ مارگریٹ بیکیٹ نے کہا کہ اس سروے میں ہلاکتوں کی تعداد کسی بھی دوسرے تجزیہ سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

برطانوی طبی جریدے لانسیٹ میں سروے کے نتائج شائع ہوئے ہیں جن کے مطابق عراق پر حملوں سے اب تک چھ لاکھ پچپن ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکی صدر جارج بش نے بدھ کے روز سروے کے نتائج پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ہلاکتوں کی یہ تعداد ’قابل اعتبار نہیں‘ ہے۔

عراقی حکومت کے ترجمان علی الدباغ نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھا چڑھاکر پیش کی گئی ہے اور اس سروے کے لیے اعداد و شمار اکٹھا کرنے کا طریقہ درست نہیں ہے۔

اس سروے کے لیے محققین نے اٹھارہ سو پچاس خاندانوں سے بات چیت کی جن میں بارہ ہزار آٹھ سو افراد رہتے ہیں۔ رائے دہندگان ملک کے مختلف علاقوں میں چالیس گھروں پر مبنی درجنوں برادریوں میں رہتے ہیں۔

عراقی فوجیمتحد عراق؟
فرقہ وارانہ تشدد اور تقسیم کی باتیں
مردہ خانے کم پڑ گئے
بغداد کے مردہ خانوں میں لاشوں کی تعداد بڑھ گئی
عراق میں خونریزی
ہلاکتیں، مزاحمت: اعداد و شمار کے آئینے میں
جسمانی تشددتشدد میں اضافہ
’عراق میں جسمانی تشدد صدام دور سے زیادہ ہے‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد