BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 October, 2006, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسلح گروہوں کے خلاف کارووائی‘
عراقی وزیراعظم نوری المالکی
نوری المالکی کی مخلوط حکومت میں شیعہ جماعتیں بھی شامل ہیں
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے ملک میں موجود مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف سرکاری افواج کو اسلحہ اٹھانے کا اختیار ہے۔

عراق میں مسلح گروہوں کو فرقہ وارانہ خونریزی کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔ نوری المالکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی حکومت ہر ایسے گروہ کے خلاف کاروائی کرے گی جو ریاستی طاقت کو چیلنج کرے گا یا قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا۔

عراق میں امریکہ کے سفیر زلمے خلیلزاد نے منگل کے روز بیان دیا تھا کہ عراقی قیادت نے سیاسی اور سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے ایک لائحہ عمل پر اتفاق رائے کر لیا ہے، جس میں مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے۔

انہوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا تھا کہ طے پانے والے لائحہ عمل پر آئندہ بارہ ماہ کے دوران قابل ذکر پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نوری المالکی کو جو مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ ان کی مخلوط حکومت میں شیعہ جماعتیں بھی شامل ہیں، جن کے اپنے طاقتور مسلح گروہ ہیں۔

ادھر تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عراقی سکیورٹی فورسز نے بغداد کے شیعہ اکثریت والے علاقے صدر سٹی میں رات بھر مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی، جس میں پانچ افراد ہلاک اور کم از کم چھ زخمی ہوئے ہیں۔

مقتدہ الصدر
مہدی ملیشیا کو شلعہ بیان شیعہ رہنماء مقتدہ الصدر کا حامی خیال کیا جاتا ہے۔

اس کاروائی میں عراقی فورسز کو امریکی فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی۔

امریکی حکام کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر سٹی میں کی گئی کاروائی کا مقصد ایک مسلح گروہ کے کمانڈر کو گرفتار کرنا تھا جو کہ مشرقی بغداد میں ہونے والے خود کش حملوں کے ’ماسٹر مائنڈ‘ خیال کیئے جاتے ہیں۔ ’آپریشن کے دوران عراقی فورسز مشکل سے دوچار ہوئیں تو انہوں نے امریکی فضائیہ کو مدد کے لیئے طلب کیا‘۔

صدر سٹی کا علاقہ شعلہ بیان شیعہ رہنما مقتدہ الصدر اور ان کے حامی مسلح گروہ ’مہدی ملیشیا‘ کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ عراق کے سنی رہنما اور امریکی اہلکار مہدی ملیشیا کو بغداد میں ہونے والی فرقہ وارانہ ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

اسی بارے میں
655000 عراقی ہلاک ہوئے: سروے
11 October, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد