اسامہ اور بش سب سے زیادہ خطرناک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق امریکہ کے قریبی ہمسائے اور اتحادی امریکہ کو دنیا میں امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہ سروے برطانیہ میں روزنامہ گارڈین، اسرائیل میں روزنامہ ہارتز، کینیڈا میں لا پریس اور ٹورانٹو سٹار اور میکسیکو میں روزنامہ ریفارما کی وساطت سے کرایا گیا ہے۔ جمعہ کو شائع ہونے والا رائے عامہ کا یہ سروے یہ ظاہر کرتا ہے عراق پر حملے کے بعد سے امریکہ کی عزت اس کے اپنے حامیوں میں کس قدر کم ہوئی ہے۔ برطانیہ میں کیے جانے والے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ برطانوی ووٹرز دنیا کے امن کے لیےامریکی صدر جارج بش کو شمالی کوریا کے اشتراکی رہنما کِم یونگ اِل اور ایران کے صدر محمود احمدی نژاد سے زیادہ خطرناک گردانتے ہیں۔ سروے میں حصہ لینے والے برطانوی عوام میں سے انہتر فیصد کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار سے امریکی پالیسیوں کی وجہ سے دنیا زیادہ غیر محفوظ ہو گئی ہے جبکہ صرف سات فیصد کا خیال ہےکہ عراق اور افغانستان کی صورتحال سے عالمی امن میں بہتری آئی ہے۔ ایسے ہی خیالات کا اظہار امریکہ کے دو پڑوسی ملکوں، کینیڈا اور میکسیکو، میں بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ کینیڈا میں سروے میں حصہ لینے والے افراد میں سے باسٹھ فیصد، جبکہ میکسیکو میں ستاون فیصد نے کہا کہ دنیا امریکی پالیسیوں کی وجہ سے زیادہ غیر محفوظ ہو گئی ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل میں بھی ،جہاں ہمیشہ اپنی ملکی سلامتی کے لیے امریکہ کی طرف دیکھا گیا ہے، امریکہ کےلیے حمایت میں کمی آئی ہے۔ ہر چار میں سے صرف ایک اسرائیلی ووٹر کا خیال ہے کہ صدر بش نے دنیا کو محفوظ تر بنایا ہے۔ اس کے مقابلے میں چھتیس فیصد کا کہنا ہے کہ صدر بش نے بین الاقوامی جنگ کے خطرے میں اضافہ کر دیا ہے۔ عراق پر امریکہ کی قیادت میں اتحادی فوجوں کی چڑھائی کے بارے میں بھی زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اقدام غلط تھا۔برطانیہ میں اکہتر فیصد، میکسیکو میں نواسی فیصد اور کینیڈا میں تہتر فیصد ووٹروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام غلط تھا۔ صرف گیارہ فیصد برطانوی اور اٹھائیس فیصد اسرائیلی ووٹروں کے مطابق امریکہ ترقی پذیر ممالک میں جمہوریت کو مضبوط کر رہا ہے۔
سروے میں شامل چاروں ممالک میں رائے دہندگان کے خیال میں دنیا میں بے چینی کا سبب بننے میں صدر بش اور ان کے سب سے بڑے دشمن، اسا مہ بن لادن میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ اگرچہ اسرائیل، کینڈا اور میکسیکو میں اسامہ بن لادن کو بے چینی کا سب سے بڑا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے لیکن برطانیہ میں دونوں میں زیادہ فرق دکھائی نہیں دیا۔ ستاسی فیصد برطانویوں کے خیال میں دنیا میں امن کو خطرہ اسامہ بن لادن سے ہے جبکہ پچہتر فیصد نے اس سلسہ میں صدر بش کا نام لیا۔ سروے کے مطابق برطانیہ میں لوگ صدر بش کو صدر احمدی نژاد (باسٹھ فیصد)، کِم یونگ ال (انہیتر فیصد) اور حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ (پینسٹھ فیصد) سے زیادہ خطرناک شخص سمجھتے ہیں۔ صرف دس فیصد برطانوی سوچتے ہیں کہ دنیا کو صدر بش سے کوئی خطرہ نہیں ہے جبکہ اسرائیل میں لوگ ان پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ اسرائیل میں تئیس فیصد کا خیال ہے صدر بش عالمی امن کے لیے خرناک ہو سکتے ہیں جبکہ اکسٹھ فیصد کا خیال ہے ایسا نہیں ہے۔ عام توقعات کے برعکس سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ برطانیہ میں نوجوانوں کی نسبت بڑی عمر کے لوگ عراق پر حملے کے زیادہ خلاف ہیں۔ اسی طرح پینتیس سال سے کم عمر کے رائے دہندگان صدر بش کے زیادہ خلاف نہیں ہیں جبکہ صدر بش کے خلاف نفرت سب سے زیادہ پینتیس اور پینسٹھ سال کے درمیان کی عمر کے افراد میں پائی گئی ہے۔ | اسی بارے میں نہ اسامہ اور نہ ہی بش27 September, 2006 | آس پاس اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکالیں گے: بش12 September, 2006 | آس پاس عراقی ہلاکتوں پر سروے غلط: برطانیہ12 October, 2006 | آس پاس 655000 عراقی ہلاک ہوئے: سروے11 October, 2006 | آس پاس اسلام اور مغرب میں گہری خلیج: سروے23 June, 2006 | آس پاس دو ہزار پانچ آفات کا سال رہا: سروے 30 December, 2005 | آس پاس حالات بدتر، لیکن عراقی پُرامید12 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||