دو ہزار پانچ آفات کا سال رہا: سروے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی ورلڈ سروِس کے ذریعے کرائے جانے والے رائے شماری کے ایک جائزے کے مطابق دنیا کے بیشتر علاقوں میں لوگ سمجھتے ہیں کہ سن دوہزار پانچ کو قدرتی آفات کے لیے یاد رکھا جائے گا۔ رائے شماری کے اس جائزے کے مطابق لوگوں کے ذہن میں نقش رہنے والے تین سب سے اہم بین الاقوامی واقعات سونامی، کٹرینا اور جنگِ عراق تھے۔ کچھ دلچسپ باتیں جو اس سروے میں سامنے آئیں وہ حسب ذیل ہیں: ٭ انڈونیشیا میں سال کا سب سے بڑا واقعہ سونامی نہیں بلکہ بالی بم دھماکوں سے متعلق خبریں تھیں۔ ٭ سمندری طوفان کٹرینا کو امریکہ سے زیادہ افغانستان اور ارجینٹینا میں سال کا اہم واقعہ سمجھا گیا۔ ٭ ہندوستان میں پاکستان کے زلزلے کو بالکل ہی اہم تصور نہیں کیا گیا۔ افغانوں کے لیے پاکستان کا زلزلہ سب سے اہم ثابت ہوا۔ ٭ لندن بم دھماکوں کو برطانیہ کے بجائے گھانا میں سال کا اہم واقعہ تصور کیا گیا۔ ٭ برطانوی لوگوں کے لیے جنگِ عراق سے متعلق خبریں اہم نہیں ثابت ہوئیں۔ یہ رائے شماری ستائیس ملکوں میں کرائی گئی جن میں پاکستان شامل نہیں ہے لیکن اس کے دو پڑوسی ملک افغانستان اور ہندوستان کے لوگوں نے اس سروے میں حصہ لیا۔ بی بی سی نے یہ رائے شماری پولنگ کرنے والے ادارے گلوب سکین اور امریکہ کی میریلینڈ یونیورسٹی کے ماہرین کے ذریعے کرائی۔ سونامی طوفان کو رائے دہندگان میں سری لنکا سے ستاون فیصد نے، ہندوستان سے اکتیس فیصد اور انڈونیشیا سے تیس فیصد نے گزشتہ بارہ مہینوں کا سب سے اہم واقعہ قرار دیا۔ انڈونیشیا میں سن دو ہزار پانچ کے سب سے بڑا واقعے کے طور پر بالی بم دھماکوں کی خبریں لوگوں کے ذہن پر رہیں۔ انڈونیشیا سے سب سے زیادہ اڑتالیس فیصد رائےدہندگان نے بالی بم دھماکوں کو بڑا واقعہ بتایا۔ سروے میں شامل ہونے والے امریکی رائے دہندگان میں سے صرف آٹھ فیصد نے سونامی کو اہم تصور کیا۔ نیو آرلیئنز میں آنے والی سمندری طوفان کٹرینا کو صرف پندرہ فیصد امریکی رائے دہندگان نے سال کا اہم واقعہ قرار دیا۔ جبکہ یہ شرح افغانستان میں اٹھارہ فیصد اور ارجینٹینا میں اٹھارہ فیصد تھی۔ امریکیوں کے لیے سال کا سب سے اہم واقعہ جنگِ عراق کی خبریں تھیں۔ سب سے زیادہ ستائیس فیصد امریکی رائے دہندگان نے اسے سال کا بڑا واقعہ بتایا۔
افغانوں کے لیے پاکستان میں اکتوبر میں آنے والا زلزلہ سب سے بڑا واقعہ تھا، اور سب سے زیادہ بیالیس فیصد افغانوں نے اسے سال کا سب سے اہم واقعہ قرار دیا۔ پاکستان کا زلزلہ ہندوستان میں سال کا اہم واقعہ ثابت نہیں ہوا اور سروے میں شامل رائےدہندگان کا جواب اس مد میں صفر فیصد تھا۔ ہندوستان میں سب سے اہم واقعہ سونامی کو تصور کیا گیا اور سب سے زیادہ اکتیس فیصد رائے دینے والوں نے اسے سال کا اہم واقعہ قرار دیا۔ ہندوستان میں جن دیگر دو بڑے معاملات کو اہم سجھا گیا ہے وہ ہیں جنگِ عراق اور ماحولیات میں تبدیلی یعنی گلوبل وارمِنگ۔ دلچسپ نتائج میں اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ برطانیہ میں جنگِ عراق سے متعلق خبروں کو اہم نہیں سمجھا گیا۔ برطانوی لوگوں کے لئے گزشتہ بارہ مہینوں میں سب سے بڑا واقعہ سونامی (سولہ فیصد)، دوسرا سب سے بڑا واقعہ گلوبل وارمِنگ (دس فیصد)، تیسرا اہم واقعہ جنگ عراق (نو فیصد) اور چوتھا سب سے بڑا اہم واقعہ لندن بم دھماکے (سات فیصد) تھے۔ برطانیہ اور جرمنی سے دو دو فیصد، اور برازیل، فِنلینڈ، جنوبی کوریا اور امریکہ سے ایک ایک فیصد رائے دہندگان نے پاکستان کے زلزلے کو سال کا اہم واقعہ قرار دیا۔ عراقیوں کے لیے سب سے اہم خبریں جنگِ عراق سے متعلق تھیں جبکہ ان کے لیے سال کا دوسرا بڑا واقعہ کٹرینا ثابت ہوا۔ اگرچہ بالی بم دھماکوں سے متعلق خبروں کو انڈونیشیا میں سونامی سے بڑھ اہم سمجھا گیا، تاہم دلسچپ بات یہ بھی ہے کہ بالی دھماکوں میں زیادہ تر آسٹریلیائی شہریوں کی ہلاکت کے بعد بھی یہ دھماکے گزشتہ بارہ مہینوں میں آسٹریلیا میں اہم نہیں تھے۔ آسٹریلیا میں سال کا سب سے اہم واقعہ سونامی اور دوسرے نمبر پر جنگِ عراق کو سمجھا گیا۔ مبصرین کے مطابق رائے شماری کے جائزوں سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ان ملکوں میں عوام کس طرح کی خبریں پڑھ رہے ہیں اور ان کی ذرائع ابلاغ تک رسائی کیسی ہوگی۔ | اسی بارے میں حالات بدتر، لیکن عراقی پُرامید12 December, 2005 | آس پاس حالات بدتر ہوئے ہیں: عراقی عوام11 December, 2005 | آس پاس پاکستان: قومیت سے زیادہ مذہب اہم15 September, 2005 | پاکستان ’ملک ہماری مرضی سے نہیں چلتا‘15 September, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||