پاکستان: قومیت سے زیادہ مذہب اہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کی عالمی سروس نے گیلپ انٹرنیشنل کے ذریعہ راۓ عامہ کا جو جائزہ کرایا ہے اس کے مطابق پاکستانیوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ ان کے لیے قومیت سے زیادہ مذہب اہم ہے۔ اسی سروے کے مطابق بھارت میں اکثریت کی رائے میں سیاست دانوں سے زیادہ قابلِ اعتبار پولیس اور فوج ہے۔ یہ جائزہ بی بی سی نے گیلپ انٹرنیشل وائس آف دی پیپل کے ذریعے کرایا ہے جس میں اڑسٹھ ملکوں کےپچاس ہزار لوگوں سے سوالات پوچھے گۓ تھے۔لوگوں کے جوابات سے پتہ چلتا ہے کہ پینسٹھ فیصد لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی حکومتیں ان کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ پاکستان میں پچپن فیصد افراد کا کہنا ہے
بھارت میں دو تہائی افراد کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہوتے جبکہ ستتر فیصد نے کہا کہ ان کا ملک ان کی مرضی اور منشا کے مطابق نہیں چل رہا۔ اس سوال پر کہ ذاتی زندگی میں ان کے فیصلوں پر سب سے زیادہ اثرانداز کون ہوتا ہے، بھارت میں بانوے فیصد جبکہ پاکستان میں پینتالیس فیصد افراد نے اپنے جیون ساتھی یا خاندان کا نام لیا۔ اٹھارہ فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ ان کے ذاتی فیصلوں کومذہبی رہنما متاثر کرتے ہیں جبکہ بھارت میں کسی بھی رائے دینے والے نے یہ نہیں کہا کہ اس کی ذاتی زندگی کے فیصلوں کو مذہبی رہنماؤں نے متاثر کیا ہے۔ بھارت میں اکسٹھ فیصد کا کہنا تھا کہ فوج اور پولیس سیاست دانوں کے مقابلے زیادہ قابلِ اعتبار ہے جبکہ اٹھاون فیصد رائے دینے والوں کے نزدیک صحافی سیاست دانوں سے زیادہ معتبر ہیں۔ اڑسٹھ فیصد بھارتی اور ترپن فیصد پاکستانی متفق تھے کہ وہ اپنی زندگیوں کو بدلنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے جبکہ عالمی سطح پر یہ تناسب چونتیس فیصد ہے۔ اس سوال پر کہ وہ اپنے اپنے ملک میں کس کو اختیار دینا چاہیں گے پاکستان اور بھارت دونوں ہی ملکوں کے پچپن فیصد افراد نے فوج اور دانشوروں کا نام لیا جبکہ پچاس فیصد نے اخبار نویسوں کے حق میں ووٹ دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||