BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 November, 2006, 07:31 GMT 12:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوہائیو: امریکہ کی انتخابی نبض

کارکن پارٹی کی طرف سے قائم کیے گئے انتخابی کال سینٹر میں مصروف نظر آئے۔
امریکہ جیسے بڑے ملک کے سیاسی موڈ کا اندازہ لگانا ہو تو لوگ اوہائیو کا رخ کرتے ہیں کیونکہ اگر اوہائیو والے آپ سے راضی، تو سمجھیں باقی امریکہ بھی آپ کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

روایتی طور پر اوہائیو کے لوگ ریپبلکن پارٹی کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔ لیکن اس بار کانگریس کے الیکشن میں ریاست اوہائیو کے لوگوں کے تیور کچھ بدلے بدلے سے ہیں۔

ریاست اوہائیو کے دارالحکومت کولمبس میں واقع ڈیموکریٹ پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں کارکن پارٹی کی طرف سے قائم کیے گئے انتخابی کال سینٹر میں مصروف نظر آئے ۔ وہ دن رات ووٹرز کو فون کرکے سات نومبر کے روز ڈیموکریٹ امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

ایک کارکن نے بتایا کہ انتخابی مہم کے آخری ہفتے میں ان کی زیادہ توجہ ان لوگوں پر ہے جو خود کو نہ ڈیموکریٹ کہتے ہیں نہ ریپبلکن، بلکہ ہر الیکشن میں امیدواروں اور اشوز کو سامنے رکھ کر ووٹ دیتے ہیں۔ پوچھا کہ آپ کو ان ووٹرز کا کیسا ردعمل مل رہا ہے؟ جواب آیا: بہت ہی بڑہیا!

اوہائیو میں اس بار ڈیموکریٹس کی اس بظاہر پراعتمادی کی بڑی وجہ یہاں ریپبلکنز کی مبینہ بدعنوانیوں کے قصے ہیں۔

کولمبس کے ایک رہائشی امرناتھ پانڈے کہتے ہیں کہ :’ریپبلکن قیادت کے بارے میں یہاں یہ مشہور ہے کہ یہ لوگ پے اینڈ پلے میں یقین رکھتے ہیں یعنی پیسہ پھینک تماشہ دیکھ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کافی لوگوں کا ریپبلیکنز پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔‘

لیکن امریکی سیاسی نظام میں امیدوار چاہے ڈیموکریٹ ہوں یا ریپبلیکن، بڑی بڑی کمپنیوں سے کروڑوں ڈالر کے چندے سبھی لیتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کوئی قانون کے دائرے میں رہ کر یہ کام کرتا ہے اور کوئی اس سے بالاتر ہوکر۔

’ریپبلکن قیادت کے بارے میں یہاں یہ مشہور ہے کہ یہ لوگ پے اینڈ پلے میں یقین رکھتے ہیں یعنی پیسہ پھینک تماشہ دیکھ: امرناتھ

کرپشن کے علاوہ باقی ملک کی طرح اوہائیو میں بھی عراق کا مسئلہ چھایا ہوا ہے۔

تیس سال سے امریکہ میں مقیم عدنان مرزا مسلم کمیونٹی میں خاصے سرگرم ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’مسلمانوں اور پاکستانیوں نے سن دو ہزار میں زیادہ تر جارج بش کو ووٹ دیے۔ لیکن پچھلے چھ برسوں میں انہوں نے مسلمانوں کی جو خدمت کی ہے، خصوصاً عراق میں، اب شاید ہی ان کی پارٹی کو کوئی مسلمان ووٹ دے گا۔‘

لیکن اوئیو ہی میں اپنے فارم بزنس کے مالک اور ریپبلکن حامی پرویز قریشی پُر امید ہیں کہ جارج بش کی پارٹی کو اوہائیو سے شکست نہیں ہوگی۔ان کا کہنا ہے کہ جارج بش سے تو کافی لوگ نالاں ہوں گے لیکن یہاں کے اکثریتی قدامت پسند لوگ پھر بھی ریپبلکنز کو ہی ووٹ دیں گے۔ اس کی بڑی وجہ ان کے نزدیک ریپبلکن پارٹی کی سماجی و اخلاقی اقدار ہیں جو قدامت پسند ووٹرز کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔

لیکن اس بار امریکہ کی سیاسی فضا میں کچھ تبدیلی بہرحال محسوس کی جا سکتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جارج بش سے ناخوش لوگ ریپبلکن پارٹی کو تھوڑا سا سبق سکھانا چاہتے ہیں۔ دنیا میں جمہوریت کے فروغ کے دعویدار جارج بش کے لیے اپنی امریکی جمہوریت کا یہ سبق کتنا کڑا ثابت ہوسکتا ہے، یہ آٹھ نومبر کی صبح الیکشن نتائج سے واضع ہو جائے گا۔

بل گیٹسبل گیٹس نمبر ون
امریکہ کے چار سو ارب پتی افراد کی فہرست
امریکی صدرعالمی امن کو خطرہ
امریکہ سے عالمی امن کو خطرہ ہے: عالمی سروے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد