BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 November, 2006, 08:47 GMT 13:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایوان نمائندگان، ڈیموکریٹس کے پاس
کیپٹل ہل
صدر بش کی ایوان نمائندگان میں شکست کے بعد کانگرس پر گرفت کمزور پڑ گئی ہے
امریکہ کے درمیانی مدت کے انتخابات میں جن کو صدر بش کی پالیسیوں کے خلاف ریفرنڈم قرار دیا جا رہا تھا ڈیموکریٹ پارٹی ایوان نمائندگان پر رپبلکن پارٹی کا بارہ سالہ غلبہ ختم کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے جبکہ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیئے انہیں دو مزید نشستیں درکار ہیں۔ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق امریکی ایوان بالا یا سینیٹ میں حزب اختلاف کی ڈیموکریٹ پارٹی، کنیٹیکٹ سے آزاد امیدوار جوزف لائبرمین اور ورمنوٹ سے برنی سینڈرز کی کامیابی کی وجہ سے اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

غیر حتمی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سینیٹ میں رپبلکن اراکین کی تعداد انتالیس جبکہ ڈیموکریٹس کی تعداد چھیالس ہو جائے گئی۔

پولنگ کے بعد رات گئے واہٹ ہاؤس نے اعتراف کیا کہ ڈیموکریٹ پارٹی ایوان نمائندگان میں کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

ایوان زیریں کی کل چارسو پینتس نشستوں میں سے ڈیموکریٹ پارٹی کے اراکین کی تعداد دو سو ستائیس تک پہنچتی نظر آتی ہے جبکہ حکمران رپبلکن پارٹی کے اراکین کی تعداد دو سو بتیس سے کم ہو کر ایک سو ترانوے رہے جائے گئی۔

امریکی سیاسی تاریخ کے ان اہم انتخابات کی سب سے قابل ذکر بات کانگرس میں پہلی مرتبہ ایک مسلمان امیدوار کی کامیابی ہے۔ امریکی ریاست منیسوٹا سے ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار کیتھ ایلسن پہلے مسلمان امیدوار ہیں جو امریکی ایوان نمائندگان کا رکن بننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

نینسی پالوسی
نینسی پالوسی ایوان نمائندگان کی پہلی خاتون سپیکر ہوں گی۔

اس کے علاوہ ڈیموکریٹ پارٹی کی کامیابی سے امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایوان نمائندگان میں ایک خاتون کے سپیکر کے عہد پر منتخب ہونے کے امکانات بھی روشن ہو گئے ہیں۔ ایوان نمائندگان میں اپوزیشن لیڈر نینسی پالوسی پہلی خاتون سپیکر ہوں گی۔

امریکی نظامِ حکومت میں ایوان نمائندگان کے سپیکر کا درجہ امریکی صدر اور نائب صدر کے بعد آتا ہے۔

انتخابات میں جیت کے بعد ڈیموکریٹ پارٹی کے رہمناؤں نے عراقی صورتحال پر تشویش ظاہر کی اور کہا وہاں حالات کو بدلنے کے لیے حکمت عملی بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔

ڈیموکریٹ پارٹی نے سینٹ کےانتخابات میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ریپبلیکن پارٹی کے تین مضبوط امیدوراوں کو ہرا کر سینٹ میں اپنی پوزیشن پہلے سے بہتر بنا لی ہے۔

منگل کو ہونے والے درمیانی مدت کے ان انتخابات میں ایوان نمائندگان کی چار سو پینتیس اور ایوانِ بالا کی ایک تہائی یعنی سو میں سے تینتیس نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے تھے۔ ان کے علاوہ امریکی عوام نے چھتیس ریاستوں میں گورنر کے عہدے کے لیے بھی ووٹ ڈالے۔

آئندہ صدراتی انتخابات میں متوقع ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن دوبارہ سینیٹر منتخب ہوگئی ہیں۔

ڈیموکریٹ پارٹی نے سینیٹ کی تین نشتوں کے علاوہ ریاست اوہائیو میں گورنر کی نشت بھی حاصل کر لی ہے۔

ریپبلیکن پارٹی کے آرنلڈ شیوزنیگر دوبارہ کیلفورنیا کے گورنر منختب ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ریاست پینسلوینیا میں ڈیموکریٹک امیدوار بوب کیسی نے ریپبلیکن امیدوار کو ہرا کر سینٹ کی اہم نشت جیت لی ہے۔

سابق ڈیموکریٹ سینٹر جوزف لبرمین نے آزاد امیدوار کی حثیت سے سینٹ کی نشت جیت لی ہے۔جوزف لبرمین کا شمار عراق جنگ کے شدید حمایتوں میں ہوتا ہے اور وہ امریکی صدر جارج بش کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔

ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں جوزف لبرمین

جوزف لبرمین
عراق جنگ کے حمایتی جوزف لبرمین پھر سینٹ کے ممبر بن گئے ہیں۔
نے آزاد امیدوار کی حثیت میں سینٹ کے انتخاب لڑا اور جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔

الیکشن حکام نے کہا ہے چھ ریاستوں کے کچھ پولنگ سٹیشنوں پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں خرابی کی وجہ پولنگ روکنا پڑی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ووٹنگ کے وقت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

ریاست ورجنیا میں ایف بی آئی نےالیکشن حکام کی شکایت پر کچھ لوگوں کو فون پر دھمکیاں دینے اور الیکٹرانک مشینوں کے خراب ہونے کی تحقیق شروع کر دی ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق ووٹروں کی ایک بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ووٹروں کا ٹرن آؤٹ چالیس فیصد سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

صدر بش کے آخری دو سال
 صدر بش کے اقتدار کے آخری دو سالوں میں کانگریس پر غلبہ کس کا ہوگا۔ اس کا فیصلہ مڈٹرم انتخاب کے نتائج سے ہوگا۔
مڈٹرم انتخابات کے نتیجے میں یہ فیصلہ ہو گا کہ صدر بش کے اقتدار کے آخری دو سالوں کانگریس میں اکثریت کس کی ہو گی۔ صدر بش کے چھ سالہ اقتدار میں ریپبلیکن پارٹی کا کانگریس پر مکمل غلبہ رہا ہے اور کانگریس نے صدر بش کے تقریباً تمام فیصلوں کی تائید کی ہے۔

ان انتخابات میں عراق میں جنگ سب سے اہم موضوع رہا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ عراق موجودہ صورتحال صدر بش کی ٹیم کی نااہلی کی وجہ سے پیدا ہوئی۔

آرنلڈ شیورزنگر
آرنلڈشیورزنگر دوبارہ کیلفورنیا کے گورنر منتخب ہو گئے ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران ریپبلیکن پارٹی کا دعوی تھا کہ ان کی حکومت کی طرف سے کیئے جانے والے سخت حفاظتی اقدامات کی وجہ گیارہ ستمبر 2001 کے بعد امریکی سر زمین پر دہشت گردی کی کوئی کارروائی نہیں ہو سکی ہے۔

امریکی صدر جارج بش ریپبلیکن نے اور سابق صدر بل کلنٹن ڈیموکریٹ امیدواروں کی انتخابی مہم میں شریک تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد