رمسفیلڈ کے استعفیٰ کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کے چار اخباروں نے وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ کے استعفیٰ کے لئے ایک مشترکہ اپیل کی ہے۔ ان اخباروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ رمسفیلڈ کی فوجی قیادت پر عوام، کانگریس اور فوجیوں کو اعتبار نہیں رہا۔ آرمی ٹائمز کے ایڈیٹر رابرٹ ہوڈیئرن نے وزیر دفاع پر مسلسل غلطیاں کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ آرمی ٹائمز کے علاوہ ایئر فورس ٹائمز، نیوی ٹائمز اور مرین کور ٹائمز نے رمسفیلڈ کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی ہفتے امریکی صدر جارج بش نے یہ واضح کیا ہے کہ ان کے دورِ اقتدار کے مکمل ہونے تک ڈونلڈ رمسفیلڈ ہی وزیر دفاع رہیں گے۔ دریں اثناء امریکی حکومت کے تین اعلیٰ اہلکاروں نے جنہوں نے پہلے جنگِ عراق کی حمایت کی تھی، اس پر شک کا اظہار کیا ہے کہ جنگ کیسے لڑی گئی۔ ایسے ہی ایک اہلکار رِچرڈ پرل نے وینیٹی فیئر نامی رسالے کو بتایا کہ عراق میں امریکی پالیسی تباہی میں تبدیل ہوگئی ہے۔ لیکن ایک دوسرے اہلکار اور جارج بش کے اسپیچ رائٹر ڈیوِڈ فرم نے کہا ہے کہ ان اہلکاروں کے بیانات کی ذرائع ابلاغ نے غلط تشریح کی ہے۔ | اسی بارے میں پروپیگنڈہ جنگ میں پیچھے ہیں: رمزفیلڈ18 February, 2006 | آس پاس رمزفیلڈ: استعفٰی کے لیئے دباؤ14 April, 2006 | آس پاس رمزفیلڈ مستعفی نہیں ہوں گے: بش15 April, 2006 | آس پاس رمزفیلڈ: استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا16 April, 2006 | آس پاس ڈونلڈ رمزفیلڈ اچانک بغداد پہنچے26 April, 2006 | آس پاس طالبان کو شکست ہو گی: رمزفیلڈ11 July, 2006 | آس پاس ’عراق میں امریکی کامیابی ممکن ہے‘25 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||