پروپیگنڈہ جنگ میں پیچھے ہیں: رمزفیلڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے تسلیم کیا ہے کہ امریکہ القاعدہ اور دوسرے دشمنوں کے خلاف پروپیگنڈے کی جنگ ہار رہا ہے۔ امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ القاعدہ اور دوسری انتہا پسند تحریکیں مشرق وسطیٰ کے ٹیلیوژن چینلوں سے کئی سال سے خوب فائدہ اٹھا رہی ہیں اور مغرب کے خلاف مسلمانوں کی راۓ عامہ میں زہر گھول رہی ہیں جبکہ ہم نے مسلمانوں تک رسائی کی شروعات بھی نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ذرائع ابلاغ کے دور میں دہشت گردی کی خلاف جنگ میں امریکہ کو مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے وہی ذرائع استعمال کرنے چاہئیں جنہیں بہت چابکدستی سے اس کے دشمن استعمال کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ رمزفیلڈ نے کہا کہ امریکی حکومت اور مسلح افواج کو واقعات اور حالات پر فوری رد عمل ظاہر کرنا چاہیے اور ابلاغ عامہ کے تمام جدید ذرائع سے کام لینا چاہیے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں رائے عامہ کے میدان میں کامیابی حاصل کرنا بش انتظامیہ کے لیے ایک نئے محاذ کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ کونسل آف فارن ریلیشنز میں اپنی تقریر میں مسٹر رمزفیلڈ نے کہا کہ امریکی کی کچھ ہی اہم جنگیں اب نیوز روموں میں لڑی جانی ہیں۔ دوسری طرف صدر بش نے کہا ہے کہ امریکہ کو عراق میں ہونے والے نقصانات سے حوصلہ نہیں چھوڑنا چاہیے اور اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ وہ حالت جنگ میں ہے۔ ’ہمیں حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے کیونکہ ہم ماضی میں دیکھ چکے ہیں کہ جمہوریت نے ماضی میں بھی دنیا کو بدل کر رکھ دیا تھا۔‘ تاہم صدر بش نے فلوریڈا میں اپنی تقریر کا بیشتر حصہ القاعدہ کے خلاف جنگ میں ہونے والی پیش رفت پر صرف کیا۔ انہوں نے کہا کہ آہستہ آہستہ امریکہ دہشت گردوں کو ان کی کمین گاہوں سے ڈھونڈ نکالنے میں کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’مزاحمت کا صحیح اندازہ نہیں‘17 February, 2005 | صفحۂ اول عراق سے امریکی فوج کی واپسی؟16 November, 2005 | آس پاس ’اسامہ کی گرفتاری اولین ترجیح ہے‘21 December, 2005 | پاکستان ’امریکہ کو شکست کا سامنا ہے‘09 September, 2004 | آس پاس القاعدہ کی مشکل میں اضافہ: امریکہ 11 January, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||